198

آخر اس تاریخی تصویر کی حقیقت کیا ہے؟

اپریل 1941 میں جب جرمن نے بوسنیا پر قبضہ کیا تو ایک ایسی کہانی نے جنم لی جسے مسلمان اور یہودی کبھی بھلا نہ سکیں گے ـ نازی فوج کی بمباری کے دوران سراووئیو میں ایک یہودی جوزف کویلیوس کا گھر بھی ملبے کا ڈھیر بن گیا، کویلیوس اپنی بیوی کے ہمراہ پہاڑوں پر لکڑیاں جمع کرنے کے لئے گیا ہوا تھا ـ

علاقے میں یہودیوں کو بلکل برداشت نہیں کیا جا رہا تھا اس لئے جب کویلیوس اپنی بیوی کے ہمراہ واپس آیا تو اس کے مسلمان پڑوسی مصطفیٰ ہردگا نے بڑا خطرہ اپنے سر لے کر کویلیوس خاندان کو اپنے گھر میں پناہ دیدی، اُس وقت گلی کوچوں میں بار بار اعلان کیا جاتا رہا کہ جس نے بھی کسی یہودی کو اپنے پاس چھپایا اسے قتل کردیا جائے گا ـ

مصطفی کے سسر کو ایک یہودی کو پناہ دینے کے جرم میں نازی فوج نے قتل کردیا تھا اس کے باوجود مصطفی نے ایک کویلیوس اور اس کی بیوی کو نہ صرف پناہ دی تھی بل کہ کویلیوس کو بھی خاندان کا رکن قرار دیکر گھر کی خواتین کو اُس کے سامنے پردہ نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا ـ کویلیوس خاندان جرمن فوج سے بچ گیا بعد میں اسرائیل منتقل ہوگیا

پچاس سال بعد جب سرب فوج نے سراووئیو پر حملہ کردیا اور مسلمانوں پر یہودیوں کی طرح برا وقت آیا تو کویلیوس خاندان احسان کا بدلہ اتارنے کے لئے سرگرم ہوا، مصطفی کے خاندان کو سراووئیو سے نکالنے کے لئے اسرائیل نے حکومتی سطح پر کوششیں شروع کردیں، یہاں تک کہ اسرائیل نے بوسنیا کے صدر سے مصطفٰی کے خاندان کو اسرائیل جانے کی درخواست کی ـ

درخواست قبول کی گئی اسی طرح مصطفی خاندان کو اسرائیل جانے دیا گیا، ائیرپورٹ پر حکومتی اہلکاروں نے اُنکے خاندان کا گرمجوشی سے استقبال کیا اور مصطفی کے نام کا ایک یادگاری پودا بھی لگایا گیا ـ

زیرِنظر تصویر مصطفی کی بیوی ہے جس نے اپنا برقعہ کویلیوس کی بیوی کو پہنایا ہے تاکہ خاص بیج کے ذریعے نازی فوج کو اسے پہچاننے میں مشکل ہو، چھوٹی بچی کویلیوس کی بیٹی ہے ـ بعد میں اسی نے مصطفی خاندان کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، تصویر نازی فوج کے فوٹوگرافر اس وجہ سے لی تھی کہ اسے برقعہ ایک عجیب چیز نظر آ رہی تھی ـ

یہ تحریر راشد حمزہ کی ہے، ان سے ان کے نام پر کلک کر کے رابطہ کیا جا سکتا ہے