220

پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں جاری پن بجلی منصوبے اور ماحولیاتی مسائل

پاکستانی زیر انتظام کشمیر گذشتہ ستر سالوں سے ایک متنازعہ خطہ ہونے  کے باعث کسی بھی طرح کی بڑی صنعت لگنے سے محفوظ رہا ہے، ایک تو علاقے کا کی زمینی ساخت و ہیت ایسی ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ سے ملنے والے پہاڑی علاقوں میں انفراسٹرکچر اور مناسب سڑکوں کے نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر اور پاکستانی کی ماضی کی حکومتیں یہ تاویل دیتی نظر آئیں کہ یہاں صنعت لگانے کے لئے خام مال کی ترسیل اور پیدا کردہ مصنوعات کو پنجاب یا دوسرے صوبوں کی منڈیوں تک پہنچانا ایک مشکل عمل ہے۔ جبکہ انہی منڈیوں سے تمام اشیائے ضروریہ پاکستان زیر انتظام کشمیر کے صارفین تک پہنچانا بالکل بھی مشکل نہیں ۔ ماضی میں جب پاکستانی حکومت نے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کو پانچ سال کیلئے ٹیکس فری زون قرار دیا تو پنجاب سے متصلہ نسبتاً میدانی علاقوں میں چند کارخانے لگا کر اس سکیم سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کی گئی۔

گذشتہ دو دھائیوں میں بجلی کے صارفین کی تعداد میں اضافے اور رسد میں کمی کی پیش نظر پاکستانی حکومتوں اور پالیسی ساز اداروں نے پن بجلی کے منصوبہ جات پر کام کرنے کا سوچا تو انہیں پن بجلی کے منصوبے لگانے کیلئے موزوں ترین خطہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر لگا۔  گذشتہ دو دہائیوں میں پاکستان کی حکومتیں وہ  جمہوری ہوں یا فوجی آمریت کی پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت سے رائے لینے یا ان کے تحفظات کو سننے تک کی زحمت کئے بغیر کسی بھی منصوبے پر کام شروع کر دیتی ہیں، اسی لئے نیلم جہلم پن منصوبہ بجلی منصوبہ شروع کرنے سے قبل ادارہ تحفظِ ماحولیات کے عدمِ اعتراض سرٹیفکیٹ کو ہی کافی سمجھا گیا۔ یاد رہے کہ نیلم جہلم پن بجلی منصوبے سے پیدا ہونے والی بجلی اور اس کے معاشی فوائد کے بابت پاکستان کی واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی(واپڈا) کا پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت سے کوئی تحریری، قانونی یا دستاویزی معائدہ  سرے سے موجود نہیں۔ جبکہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے عبوری آئین 1974 کی شق نمبر52/2/سی  کی ذیلی شق 1 کے مطابق اس عبوری آئین یہ ضمانت دیتا ہے کہ:

نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ گزشتہ برس ہی مکمل ہوا ہے ، جس کی پیداوری صلاحیت 969 میگا واٹ ہے

“آزادجموں کشمیر (سرکاری نام) کے قدرتی وسائل  جن کی معاشی قدر ہے اور جو آنے والی نسلوں کے لئے رزق اور زندگی کا ذریعہ بن سکتی ہیں، انہیں محفوظ کیا جائے گا اور انہیں آزادجموں کشمیر اسمبلی کے ایکٹ کے بغیر استعمال نہیں کیا جائیگا”

عبوری آئین کی اسی شق کی ذیلی شق 2 میں آئین یہ ضمانت دیتا ہیکہ:

” حکومت ذیلی شق 1 سے تعصب برتے  بغیر آزاد جموں کشمیر کے قدرتی وسائل قانون کے مطابق کفایت شعاری سے اور موثر انداز میں استعمال کر سکتی ہے یا حکومت اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے ریاست پاکستان کے کسی بھی فرد یا ادارے کو وسائل کے استعمال کی اجازت دے سکتی ہے، مگر حکومت کو اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ وسائل کے استعمال کو بروئے کار لانے کے عوض  نیٹ ہائیڈل گین، رائلٹی یا ان جیسے کوئی اور عوامی معاشی فوائد حاصل ہوں لیکن یہ خیال رکھنا ہوگا کے ان وسائل کے استعمال ہونے سے ریاست کے وراثتی سرمایہ  قدیم ماحول پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے”

پاکستان کی واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے 2011 میں پاکستان زیر انتظام کشمیر کے ادارہ برائے تحفظ ماحول سے ایک مشروط عدم اعتراض سرٹیفکیٹ  کے حصول کے بعد نیلم جہلم پن بجلی منصوبہ پر کا م شروع کیا۔  مذکورہ منصوبہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے عبوری آئین 1974 کی شقوں کے کے مطابق نہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی آئین سازاسمبلی میں موضوع بحث بنا اور نہ ہی پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت کیطرف سے پیشگی اجازت لی گئی۔

پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد کے شہری اس وقت بلبلا اٹھے جب سال 2018 میں  منصوبہ تکمیل کے مراحل میں پہنچا اوربجلی پیدا کرنے والی ٹربائینوں کو آزمائشی طور پر چلانے کیلئے مظفرآباد شہر کے وسط سے گذرنے والے دریائے نیلم (کشن گنگا) کو موڑ کر ایک 42 کلومیٹر لمبی سرنگ میں ڈال دیا گیا۔ مظفرآباد کے تاجر، سول سوسائٹٰی اور عام شہری نیلم جہلم پن بجلی منصوبے کی تکمیل سے مظفرآباد شہر کے وسط سے گذرنے والا کشن گنگا ایک برساتی نالے کا روپ دھار چکا تھا اور مظفرآباد کے رہائشی بابو سر کے دامن سے نکلنے والے ٹھنڈے پانی کے بڑے ذخیرے سے محروم ہو چکے تھے جسکی وجہ سے شہر کے درجہ حرارت میں موسم گرما کی آمد پر ہوشرباء اضافے کا قوی امکان موجود تھا۔

ایسے میں سول سوسائٹی کے ارکان اور شہریوں نے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے ادارہ برائے تحفظ ماحولیات کی طرف سے فراہم کردہ مشروط عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (2011) کے مندرجات کو پڑھنا، سمجھنا اور جانچنا شروع کیا۔  اس کے مطابق دریا کا رخ موڑنے پر واپڈا پر لازم تھا کہ پندرہ مکعب میٹر فی سیکنڈ کے حساب سے پانی کو اسکے قدرتی راستے پر بہنے دےگا، مظفرآباد میں پانی کی مقدار کو ماپنے کے لئے ایک سٹیشن بنائےگا، پانی میں بائیولوجیکل آکسیجن ڈیماند کی مقدار کو مستقل اورماحولیاتی تحٖفظ کے اداروں یا حکومت کی مقرر کردہ مقدار کو یقینی بنانے کیلئے مظفرآباد میں سولہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس لگائےگا، مظفرآباد شہر کو پانی کی ترسیل کے لئے لگائے گے پلانٹ کو پانی کی مطلوبہ مقدار مہیا کی جائیگی اور واپڈا کا ادارہ اس کا خیال رکھے گا، واپڈا کا ادارہ  پینے کے پانی کا ایک متبادل نظام بنائے گا تاکہ مستقبل میں آبادی میں اضافے کیصورت میں پانی کی کمی نہ ہو، پانی کی جمالیاتی حیثیت کو برقرار رکھنے کیلئے    دریا کا رُخ تبدیل کرنے کے بعد بچے ہوئے پانی کو جمع کرنے کے لئے دریا کے کناروں کو مناسب شکل  دینا ہوگی تاکہ پانی کی کمی کی وجہ سے دریا کی جمالیاتی ہیئت پر فرق نہ پڑے،   دورانِ تعمیر دھماکہ  خیز مواد  کے استعمال سے گریز کیا جائیگا اور اگرپتھر یا پہاڑیوں کو دھماکوں سے توڑنا مقصود ہوا تو اس کیلئے منصوبہ بند دھماکے کئے جائینگے۔

ادارہ برا ئے تحفظ ماحولیات نے  مشروط عدم اعتراض سرٹیفکییٹ میں وہ ساری شقیں درج کیں جو  ماحولیاتی تحفظ کے پاکستان کے قومی اور بین الاقوامی معیار کے  مطابقت رکھتی تھیں ۔ لیکن منصوبے کی تعمیر کے دوران واپڈا اور اس کے کنٹریکٹرز نے مندرجہ بالا تمام شقوں اور ذمہ داریوں کا خیال نہ رکھتے ہوئے   منصوبے کی تکمیل کی ۔ دریا کے رخ کو تبدیل کرنے کیلئے  کھودی جانے والی بیالیس کلومیٹر سرنگ    کی تکمیل کے لئے بڑی تعداد میں گیر منصوبہ بند بارودی دھماکے کئے گئے جس کے نتیجے میں  بیالیس کلومیٹر لمبی سرنگ کے آس پاس  بسنے والے دیہاتوں میں بہنے والے قدرتی چشموں  کا پانی خشک ہوا تو مقامی آبادیوں کے لئے پینے کے پانی کا کوئی متبادل نظام مہیانہیں کیا گیا۔ غیر منصوبہ بند بلاسٹنگ یا دھماکہ خیز مواد سے چٹانوں کو توڑنے کے عمل سے   ایکویفر کو ریچارج کرنے والی پانی کی چھوٹی نالیوں کا نظام درہم برہم ہوتا ہے،  جسکے نتیجے میں قدرتی چشمے خشک ہوجاتے ہیں ۔

آزاد پتن آزاد کشمیر میں 700 میگاوٹ کا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر بھی کام ہو رہا ہے۔ فوٹو وکی پیڈیا

نیلم جہلم پن بجلی منصوبے کی تعمیر سے ایک طرف  قدرتی چشموں کا نظام متاثر ہوا تو دوسری طرف پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد میں پانی کی قلت اور سیوریج کے نظام کی حالت غیر ہوئی، مشروط عدم اعتراض سرٹیفیکیٹ  کی شقوں کے مطابق کام نہ کرنے اورپانی کی مطلوبہ مقدار کو ایکالوجیکل فلو کے طور پر نہ بہنے دینے کے بعد  نوسیری سے دومیل تک دریائے نیلم ایک سیوریج نالے کی شکل میں بہہ رہا ہے۔  دلچسپ امر یہ ہے کہ تعمیری مدت پوری ہونے کے بعد  آپریشنل مرحلے کے لئے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ دیتے ہوئے ادارہ برائے تحفظ ِ ماحولیات نے ان تما م شقوں کا اعادہ کیا جو تعمیراتی مرحلے کے کے مشروط عدم اعتراض سرٹیفکیٹ میں موجود تھیں۔  

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ نیلم جہلم پن بجلی منصوبے کی ابتدائی لاگت  کا تخمینہ  بیاسی ارب روپےتھاجو تکمیل کے مراحل تک پہنچتے ہوئے پانچ سو چھے ارب تک پہنچ گیا اور اس سلسلے میں نیلم جہلم پن بجلی منصوبے  میں بین الاقوامی بڈنگ کے قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل نے پاکستان کے دزیر خزانہ جناب عبدالحفیظ شیخ کے نام 30 جنوری 2012  کو لکھے   ایک خط کے ذریعے متنبہ کیا تھا کہ اگر بین الاقوامی بڈنگ کے تقاضے نہ پورے کئے گئے تو  اگلے  تیس برس تک پاکستانی  حکومت کو پانچ سو ستاون ارب روپے کا نقصان ہو گا مگر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے خط پر توجہ دئے بغیر  منصوبے پر کام جاری رہاہے۔  ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل کے خط کے متن کے مطابق نیلم جہلم پن بجلی منصوبہ وزارت پانی و بجلی کی دستاویز ات کے مطابق  پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت کی ملکیت ہے مگر  28 جنوری 2012 کو  اقوام متحدہ  کے ذیلی ادارے یو این ایف سی سی سی کی  شائع ہونے  والی رپورٹ کے مطابق  نیلم جہلم پن بجلی کا منصوبہ حکومت پاکستان کی ملکیت ہے۔

نیلم جہلم پن بجلی کے منصوبے کے متاثرین ابھی اس کے ماحولیاتی مضمرات پر  حکام بالا کے دروازے کھٹکھٹا رہے تھے کہ مظفر آباد میں چکوٹھی سے پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر میں داخل ہونے والے دوسرے دریا  ، دریائے  جہلم پر  کوہالہ پن بجلی منصوبے پر  چینی کمپنیاں کام شروع کرنے والی ہیں ، جس کی تعمیر کے لئے مظفرآباد شہر سےپہلے  دریا کا رخ موڑنے  کیلئے تقریباً 22 کلومیٹر لمبی سرنگ بنائی جائیگی۔   مظفرآباد کے شہریوں اور سول سوسائیٹی کے ارکان نے پہلے روایتی احتجاج کیا لیکن حکام بالا کی معنی خیز خاموشی اور بے بسی دیکھتے ہوئے، خطے میں ماحولیاتی تحفظ کی پہلی غیرسیاسی تحریک کا آغاز کرتے ہوئی قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا اور  22 ستمبر 2018 کو حکومت پاکستان اور واپڈا  کے خلاف مظفرآباد ہائیکورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی ، یہ اپنی نوعیت کی پہلی رٹ پٹیشن ہے جو پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی عوام کی طرف سے حکومتِ پاکستان کے خلاف ہے اور سماعت کے لئے منظور کر لی گئی ہے۔  اس پیٹیشن کا جواب دیتے  ہوئے متعلقہ کمپنیوں نے 1998 میں کئے گئے اینوائرنمنٹل  ایمپیکٹ اسیسمنٹ کا حوالہ دیا۔  اس رٹ پٹیشن  کے جواب میں پیشہ وارانہ غفلت کا اندازہ اس بات سے لگا یا جاسکتا ہے کہ 1998 میں ہونے والے ماحولیاتی مطالعہ کے مطابق 2050 میں مظفرآباد کی آبادی کا تخمینہ  تین لاکھ سینتیس ہزار  نفوس کا لگایا گیا ہے جبکہ مظفرآباد کی موجودہ آبادی اس آبادی سے دوگنا زیادہ ہے۔اس نیت سے  آبادی کا تخمینہ کم لگایا گیا کہ  ایکالوجیکل فلو کیلئے کم پانی  چھوڑا جاسکے۔ مظفرآباد میں بننے والے منصوبوں پر وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے بنائے جانے والے دورکنی کمیشن نے بھی متاثرین کے حق میں اپنی سفارشات مرتب کی ہیں اور تکنیکی اعتبار سے کئے گئے ماحولیاتی مطالعہ کو غلط کہا ہے لیکن  اس رپورٹ کی سفارشات پر عمل ہونا بعید از قیاس لگتا ہے۔

نیلم جہلم اور کوہالہ پن بجلی منصوبے پاکستانی کے قومی مفاد اور توانائی کے حصول کے بڑے منصوبے ہیں جن سے مجموعی طور پر  2069 میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوگی لیکن ان  کے ماحول پر منفی اثرات شاید  ان کے ٖفوائد سے کہیں زیادہ ہیں تاوقتیکہ ان سے ہونے والی ماحولیاتی خرابی کو درست کرنے کیلئے بین الاقوامی معیار کے وہ سب اقدامات نہیں کئے جاتے جن کا تقاضا مظفرآباد کے اندر تراسی روزہ دھرنا دینے والی “دریا بچاؤ کمیٹی” اپنے مطالبات میں کر رہی ہے۔  ڈیڑھ لاکھ  بلواسطہ اور پانچ لاکھ بلاواسطہ متاثرین کی  صاف پانی، سیوریج کے نظام،  بائیو ڈائیورسٹی، ماحول ،نباتات اور حیوانات کے مسکن کی چھیڑ چھاڑ کے نتیجے میں بننے والے ترقیاتی منصوبے جزوتی ترقی کا پیمانہ تو ثابت ہو سکتے ہیں لیکن ماحول کو دوبارہ قابلِ رہائش بنانے کی  کوششیں  کئے بغیر یہ ترقی ماحولیاتی تباہ کاری کا باعث بنتی ہے۔

پاکستانی  اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت کی یہ ذمہ داری ہیکہ قدرتی ماحول کو تباہی سے بچانے کیلئے بین الاقوامی  معائدوں کا احترام کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی آراء کو معتبر جانیں ۔ نہیں تو  منڈی میں منافع کے حصول اور سرمایہ دارنہ نظام کے تقاضوں کو پورا کرنے کی آڑمیں نجی کمپنیاں ماحولیاتی بگاڑ میں اپنا حصہ بقدرے جثہ ڈالتی  رہیں گی ۔ اگر فطری نظام کے ساتھ  چھیڑ چھاڑ جاری رہے اور مناسب اقدامات نہ کئے جائیں تو فطرت  کے رد عمل سے نمٹنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اور نسلیں اس رد عمل کی قیمت ادا کرتی ہیں۔