253

لبریشن فرنٹ کا دھرنا ختم ہو گیا ، اثرات دیر پا ہوں گے

چار اکتوبر کو جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے سیز فائر لائن توڑنے کی کال کے ساتھ مارچ شروع کیا تو پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے ہر نظر اس مارچ پر تھی۔ ہر لب پر ایک ہی سوال تھا ، کیا لبریشن فرنٹ سیز فائر لائن کو اپنے پاﺅں تلے روند دے گی ؟ کیا ایسا ممکن ہے؟ اگر لوگ سیز فائر لائن پر پہنچتے ہیں تو کیا بھارتی فوجی ان پر گولیاں نہیں برسائیں گے؟ کیا اس طرف سے انہیں سیز فائر لائن پر پہنچنے دیا جائے گا؟ یہ وہ سوال تھے جن کا جواب سوائے مارچ انتظامیہ کے کسی کے پاس نہیں تھا۔

مارچ کے دوران تین دن میں ہزاروں افراد نے لبریشن فرنٹ کا چکوٹھی تک ساتھ دیا جہاں جسکول کے مقام پر انتظامیہ نے کنٹینر لگا کر شاہراہ سرینگر کو بند کیا ہوا تھا اور خار دار تاریں بھی لگائیں تھیں، اس کے علاوہ سینکڑوں ٹریفک پولیس اہلکار وہاں پر موجود تھے۔مارچ منتظمین نے انتظامیہ کے ساتھ زبردستی کرنے کے بجائے دھرنے کا اعلان کیا اور حکومت کے سامنے مطالبات رکھ دیے جن میں یو این او مشن کے ساتھ مذاکرات بنیادی نکتہ تھا۔

دھرنے میں تعداد کم یا زیادہ ہوتی رہی ، دن میں ہزاروں لوگ شاہرہ سرینگر کے زریعے دھرنے میں جاتے کچھ شام تک رکتے اور کچھ رات ادھر ہی بسر کرتے اس دوران مقامی لوگ بھی دھرنے میں موجود لوگوں سے مکمل تعاون کرتے رہے اور قومی تہذیب ، روایات، اقدار اور مہمان نوازی کی نئی مثالیں قائم کیں۔ لبریشن فرنٹ کا دھرنا قریبا گیارہ روز جاری رہا جبکہ آخری دو روز دھرنا شرکاءنے بھوک ہڑتال کر دی تھی۔ پاکستان زیر انتظام جمون کشمیر کی حکومت اور یو این او کے مبصر مشن کے ساتھ مذاکرات کرنے اور اپنے مطالبات کے لیے چھ ماہ کا عرصہ دینے کے بعد دھرنے کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔

دھرنے کے خاتمے کے بعد سوشل میڈیا پر دھرنے کی کامیابی اور ناکامی کے حوالے سے ایک نئی بحث چھڑ گئی۔ سوشل میڈیا صارفین نے جہاں ایک جانب دھرنے کے یوں بے نتیجہ ختم ہونے کو دھرنے اور مارچ کی ناکامی سے منسوب کیا وہیں دوسری جانب بعض صارفین نے دھرنے کی کامیاب کو کامیاب قرار دیا۔

لبریشن فرنٹ کے دھرنے کے دوران مجھے دھرنے میں شمولیت کا موقع ملا ۔ اس دوران میری ڈاکٹر توقیر گیلانی کی اہلیہ میڈم طاہرہ توقیر سے تفصیلی جبکہ ڈاکٹر توقیر گیلانی سے جزوی گفتگو کا موقع ملا۔ ڈاکٹر توقیر گیلانی سے ملاقات کی نوعیت کچھ مختلف ہونے کی وجہ سے کئی سوالا ت تشنہ رہ گئے۔

مارچ اور دھرنے کو جہاں بہت سارے لوگ مشکوک سمجتھے ہیں وہاں چند لوگوں نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ دھرنے کا مقصد آزاد کشمیر کے مختلف حلقوں کی جانب پاکستان پر بڑھتے دباﺅ کو کم کرنا اور اس کا رخ ایک مرتبہ پھر بھارت اور ویلی کی طرف موڑنا ہے۔ ان سوالات اور ان کے حوالے سے جوابات تو مارچ اور دھرنا انتظامیہ ہی بہتر دے سکتی ہے تاہم طاہرہ توقیر نے میرے تمام سوالات کے جوابات انتہائی خندہ پیشانی سے دیے ۔

ڈاکٹر توقیر گیلانی اپنی پوری فیملی کے ساتھ مارچ اور دھرنے میں موجود رہے۔ ان کے علاوہ بھی کئی لوگ اپنے خاندان بھر کو لے کر دھرنے میں پہنچے ہوئے تھے جہاں رات کو سونے کے لیے ننگی دریاں، تکیوں کے جگہ برتن اور چھت کی جگہ کھلا آسمان یا ٹینٹ تھا جس میں دونوں جانب سے جہلم کی یخ بستہ ہوائیں رات کے پچھلے پہر داخل ہوتی تھی۔ دھرنے میں موجود شرکاءہردم پرجوش تھے۔

نوجوانوں کی ٹولیاں آزادی کے نعرے لگاتی اور گیت گاتی ادھر ادھر گھوم رہی تھی جبکہ ہر آدھے گھنٹے اور گھنٹے بعد لوگوں کے قافلے دھرنے میں شامل ہوتے رکتے اور آتے جاتے رہتے۔ کچھ نوجوانون نے کفن باندھے ہوئے تھے وہ لوگوں کے لہو کو گرم رکھنے کے لیے ہر آدھے گھنٹے بعد نعرے لگاتے ہوئے کنٹینڑز تک جاتے اور پھر واپس لوگون میں شامل ہو جاتے۔

ڈاکٹر توقیر گیلانی تھکن اور صحت کی خرابی کے باجود تمام لوگوں کا بذات خود خیال رکھ رہے تھے اور دھرنے میں ہر آنے جانے والے کو ایسے ٹریٹ کر رہے تھے جیسے وہ ان کے گھر مہمان بن کر آیا ہے۔ لبریشن فرنٹ نے اس دھرنے سے کیا حاصل کیا اور کیا نقصان ہوا یہ ایک الگ بحث ہے البتہ اس دھرنے کے اثرات دیر پا ہوں گے۔

جہاں گزشتہ ایک دہائی سے سوشل میڈیا کے توسط سے ریاست جموں کشمیر کے شہریوں میں ایک نئی تحریک نے جنم لیا ہے وہیں ریاست کے نوجوان اب خود مختار ریاست جمون کشمیر کو اس مسئلہ کا واحد حل سمجھے ہیں اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں بھبھر تا تاﺅ بٹ شاید چند لوگ ہی ریاست کے الحاق کی بات کریں ۔ لبریشن فرنٹ کے مارچ اور دھرنے نے اسے نوجوانوں سے نکال کر اب ہر گھر تک پہنچا دیا ہے۔ اس کے بعد وہ خواتین بھی دلچسپی لیتی ہوئی نظر آئیں جنہیں ہمارے معاشرے میں صرف گھر اور گھر داری تک محدود رکھا جاتا ہے۔

ڈاکٹر توقیر گیلانی دھرنے کے اختتام پر شرکاء سے خطاب کر رہے ہیں

دھرنے میں خواتین کی ایک بڑی تعداد روزانہ شرکت کرتی۔ کئی خواتین آزاد کشمیر بھر سے دھرنے میں شرکت کرنے پہنچتیں تو دھرنے میں موجود طاہر ہ توقیر اور نصرت قریشی انہیں ہمہ وقت ویلکم کرتیں۔ دھرنے میں ایک جانب تو آزاد کشمیر بھر سے خواتین نے شرکت کی وہیں مقامی خواتین کا بھی دھرنے میں آنا جانا لگا رہا۔ طاہرہ توقیر نے بتایا کہ دھرنے میں کئی خواتین آنا چاہتی ہیں مگر کچھ مجبوریوں اور گھر داریوں کی وجہ سے نہیں آ سکتی اور کچھ کے لیے بہت دور ہوتا ہے تاہم کئی خواتین کی ہمت ان دو خواتین کو دیکھ بڑھی اور وہ باقائدہ دھرنے میں شریک ہوئیں۔

لبریشن فرنٹ کے مارچ اور دھرنے سے ایک اور فائدہ یہ ہوا کہ پاکستانی زیر انتظا م کشمیر کے لوگوں میں ایک دفعہ پھر تحریک آزادی ریاست کی روح بھر آئی ہے اور ہر شخص قومی آزادی اور خود مختاری کی بات کرتا نظر آتا ہے۔ ماضی میں قومی آزادی کی تحریک صرف ریاست کے چند علاقوں خصوصا سرینگر اور مضافات تک ہی محدود رہی ہے جبکہ اب یہ ریاست کے دیگر علاقوں میں بھی پھیل رہی ہے۔

5 اکست کے بعد جہاں ایک طرف پاکستان کے ریاستی بیانیے کے خلاف کھل کر لوگ بولے ہیں وہیں اب پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت کو بھی بری طرح تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اپنے آپ کو بیس کیمپ کہنے والے بے حس کیمپ ثابت ہوئے ہیں اور بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر کے لوگوں کے لیے کچھ کرنے سے بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ ان حالات میں خطے میں نئے بنیانیے ترویج پا رہے ہیں اور آنے والے کچھ ہفتے اور مہینے مزید اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

گرچہ قومی شعور کے پنپنے میں دیگر کئی واقعات اور عناصر کارفرما ہیں وہیں موجودہ وقت میں لبریشن فرنٹ کے مارچ اور دھرنے نے لوگوں میں نئی روح پھونک دی ہے اور ایک دفعہ پھر نام نہاد بیس کیمپ میں قومی آزادی اور خود مختاری کی بحثیں زور پکڑ رہی ہیں۔ قومی آزادی کی تحریکوں میں تخریب اور تخلیق ایک معینہ مدت تک جاری رہتی ہے موجودہ صورتحال میں لبریشن فرنٹ نے اپنے حصے کا انفرادی فرض نبھانے کی کوشش کی ہے اب یہ قومی حمیت کا سوال ہے کہ موجودہ تحریک کو کیا شکل دی جاتی ہے اور منزل تک کتنے وقت میں پہنچا جاتا ہے۔