JKPNA Flag, 122

عمران خان کی جنرل اسمبلی میں تقریر، مسئلہ کشمیر پر کوئی ٹھوس لائحہ عمل سامنے نہیں آیا، پی این اے

وزیرآعظم پاکستان کے مسلہ کشمیر کے حوالے سے مایوس کن خطاب کے بعد آج جموں کشمیر پیپلز نیشنل آلائنس کے رہنماوں آزادکشمیر ہائی کورٹ کے سابق چیف حسٹس،جموں کشمیر لبریشن لیگ کے سربراہ اور پیپلز نیشنل آلائنس کے شعبہ آئینی و قانونی کے سربراہ جناب ملک عبدالمجید ،جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی اور پیپلز نیشنل آلائنس کے چیرمین ذوالفقار احمد ایڈووکیٹ نے آج میرپور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیرآعظم پاکستان کا جنرل اسمبلی میں خطاب کشمیریوں کے دکھوں اور غلامی کا مداوہ کرنے میں کسی بھی طور مددگار ثابت نہیں ہو گا کیونکہ اس خطاب میں موصوف نے کسی ٹھوس اور پائیدار حل کی بات کرنے کی بجائے وہی گھسی پٹی باتیں کی

پی اے این کے رہنماوں نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ اگر پاکستان کے وزیرآعظم مسلہ کشمیر حل کرنے میں مخلص ہوتے تو کہتے کہ ہم آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کو ملا کر ایک آئین ساز اسمبلی اور خودمختار حکومت کا قیام عمل میں لا کر کشمیریوں کو بین القوامی دنیا میں اپنا کیس خود لڑنے اور پیش کرنے کیلئے کھلا چھوڑتے ہوئے آزادکشمیر سے اپنی فوجیں واپس بلاتے ہیں اور انڈیا بھی اپنی فوجیں واپس بلائے اور کشمیریوں کے حق خودآرادیت کو ممکن بنائے ۔ وزیراعظم نے کرفیو ہٹانے کی بات تو ضرور کی ہے لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ کرفیو اٹھانے کے بعد بہت کشت و خون ہو گا ۔

اگر وہ مقبوضہ کشمیر کے اسیران کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں تو پھر گلگت بلتستان کے اسیروں کی رہائی کی بات کیوں نہیں کرتے کیونکہ پوری کی پوری ریاست جموں کشمیر آر پار متنازعہ اور مقبوضہ ہے اور کشمیریوں کو منقسم ریاست کے کسی بھی حصے میں کوئی اختیارات اور اتھارٹی حاصل نہیں ہے بلکہ سب طرف قابضوں نے بے اختیار اور بے بس کٹھ پتلے مسلط کیے ہوئے ہیں ۔

پی این کے رہنماوں نے واضح کیا کہ ہم کسی بھی طور ریاست کی تقسیم کو کبھی بھی قبول نہیں کریں گے اور مادر وطن کی وحدت کیلئے ہر قربانی دیتے ہوئے بھرپور مزاحمت کریں گے ۔

پی این اے پاکستان اور انڈیا کے بیانیے کی بجائے کشمیریوں کے اصولی بیانیے کو لیکر جد و جہد کر رھی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ریاست جموں کشمیر کے مسلے کا ممکن حل اٹوٹ انگ اور شہہ رگ کے فرسودہ نعروں میں نہیں بلکہ 1947 سے قبل کی طرح ایک متحدہ اور آزاد و خودمختار ریاست جموں کشمیر میں ہے
پی این اے کے رہنماوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی کوئی فیصلہ کن ادارہ نہیں بلکہ دنیا کے مختلف رہنماوں کا تقریری مقابلہ منعقد کروانے کا ایک بے بس فورم ہے ۔

آخر میں پی این کے رہنماوں نے میرپور زلزلے کے حوالے سے کہا ہم وزیرآعظم کے مجوزہ دور میرپور پر یہ کہنا چاھتے ہیں کہ وہ منگلا ڈیم کے آمدن کا ایک فیصد حصہ ہر سال میرپور میں خرچ کرنے پر واپڈہ کو پابند کریں کیونکہ ڈیم اور نہر اپر جہلم ہی کی وجہ سے میرپور کی زمین سیم زدہ اور کمزور ہو چکی ہے اور اسی وجہ سے مکانات کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے ۔

شہدا اور زخمیوں کے معاوضے میں اضافہ کیا جائے اور وہی معاوضہ دیا جائے جو پاکستان میں دیا جاتا ہے ۔ مزید براں مقبوضہ کشمیر کو آزاد کروانا تو وزیرآعظم کے بس میں نہیں ہے لیکن واپڈہ کو وہ ضرور پابند کر سکتے ہیں کہ وہ اپنی آمدن کا 1 فیصد حصہ ہر سال میرپور کی تعمیر و ترقی اور سیکورٹی پر خرچ کرے اور ڈیم کے اردگرد اور قریب ہر قسم کی تعمیرات پر پابندی عائد کرے