Yasin Malik - hearing delayed upto 3 december news 179

یاسین ملک کے خلاف مقدمے کی سماعت 3دسمبرتک ملتوی

مقبوضہ کشمیر میں جموں کی ایک عدالت نے جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کے خلاف بھارتی فضائیہ کے چار اہلکاروں کے قتل کے مقدمے کی سماعت 3دسمبر تک ملتوی کردی ہے۔
محمد یاسین ملک اس وقت ایک اور مقدمے میں دہلی کی تہاڑ جیل میں نظربندہیں اور انہیں ٹاڈا عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔ ان کے خلاف یہ جھوٹا مقدمہ 30سال پہلے درج کیا گیا تھا۔ بھارت کی سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے جموں کی ٹاڈا عدالت میںمحمد یاسین ملک کے خلاف دو چارج شیٹ پیش کی ہیں۔

اس سے قبل جموں میں واقع ٹریرزم اینڈ ڈسرپٹیو ایکٹیوٹیز ایکٹ (ٹاڈا)کی خصوصی عدالت نے یاسین ملک کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیا تھا اور پولیس کو انہیں 11 ستمبر سے قبل عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی تھی۔

ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق یاسین ملک پر الزام ہے کہ انہوں نے 25 جنوری 1990 کو اسکواڈرن لیڈر روی کھنہ اور ان کے تین ساتھیوں کو سرینگر کی مضافات میں واقع راولپورہ علاقے میں گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ یاسین ملک، ان نوجوانوں میں شامل تھے جنہوں نے 1989 میں پہلی بار حکومت کے خلاف بندوق اٹھائی۔
عبدالحمید شیخ، اشفاق مجید وانی، جاوید میر اور یاسین ملک پر مشتمل پہلے چار بندوق برداروں کو حاجی گروپ کہا جاتا تھا۔ حکام کہتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں بھارت مخالف عسکریت پسندی شروع ہونے کے وقت، کشمیر میں ہونیوالے اکثرواقعات میں اسی گروپ کا ہاتھ رہا ہے۔ حمید شیخ اور اشفاق مجید پہلے ہی شہید جاچکے ہیں جبکہ ملک اور جاوید میر اس وقت زیر حراست ہیں۔

یاسین ملک پر سابق وزیراعلی مفتی محمد سعید کی دختر روبیہ سعید کے اغوا کا بھی الزام ہے۔ یاسین ملک کو مارچ میں حراست میں لیا گیا تھا لیکن انہیں گذشتہ مہینے شدت پسندوں کی مالی معاونت کے الزام میں نیشنل انویسٹگیشن ایجینسی (این آئی اے)کی تحویل میں دیا گیا جس کے بعد انہیں تہاڑ جیل میں رکھا گیا ہے۔

یاسین ملک نے 1994 میں عسکریت پسندی کو خیر باد کہا تھا جس کے بعد وہ سیاسی سطح پر سرگرم ہوگئے تھے۔ ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق انہوں نے سابق وزرائے اعظم اٹل بہاری واجپئی اور منموہن سنگھ کے ساتھ مذاکرات بھی کئے۔ اس دوران انہیں امریکہ اور پاکستان جانے کی بھی اجازت دی گئی تھی جہاں وہ کئی ماہ تک مقیم رہے تھے۔

یاسین ملک کی شادی پاکستان کے ایک سابق سیاسی رہنما کی دختر مشال ملک کے ساتھ ہوئی ہے اور ان کی ایک بیٹی بھی ہے۔ مشال اور انکی بیٹی کو گزشتہ کئی سال سے بھارتی حکومت نے ویزا فراہم نہیں کیا ہے۔