104

آزاد جموں کشمیر کے قدرتی وسائل پر ایک نظر

جنگلات  
صرف ازاد کشمیر سے سالانہ پانچ لاکھ سے زیادہ درخت کاٹ لیے جاتے ہیں جنکی مالیت 53ارب 75کروڑ روپے بنتی ہے اسکے علاوہ موسمی حالات اورآگ سے 05 کروڑ پودۓ ضائع ہو جاتے ہیں صرف اس لکڑی کی اسمگلنگ روک کر اگر فرنچیر بنانے کی فیکڑیاں لگای جاہیں تو ہزاروں نوکریاں پیدا کی جا سکتی ہیں اور اربوں ڈالر کا زر مبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔

معدنیات  
یواین ڈی پی کی 2006 کی ایک رپورٹ کے مطابق روبی پتھر جسکی امریکی مارکیٹ میں قمیت 1500 ڈالر فی گرام تک ہے یہ ضلع مظفرہ اباد میں چار کروڑ گرام ذخائر 2006 میں دریافت ہوۓ تھے جنکی مالیت 60ارب ڈالر بنتی ہے ڈڈیال میں چونے کے پتھر کے دس کروڑ ٹن زخائر دریافت کیے جا چکے ہیں جن پر سرمایہ کاری سے دوہزار ٹن سمنیٹ پیدا کیا جا سکتا ہے اسکے علاوہ نیلم کے علاقوں سے گرینائٹ ماربل کے69کروڑ 60لاکھ ٹن کے ذخائر دریافت ہو چکے ہیں ان تمام معدنیات کو قابل استعمال بنانے کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جو بااختیار ہو کر ہی ممکن ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔!!!

پانی اور بجلی  
آزاد کشمیر میں بجلی کی سالانہ پیداوار اور اسکی مالیت۔۔منگلا ڈیم 1400 میگاواٹ۔۔نیلم جہلم–1100 نیو بونگ اسکیپ میرپور 84 میگاواٹ–جاگراں ڈیم 30 میگاواٹ—- کٹھائی ڈیم ہٹیاں بالا 5 میگاواٹ—کیل 2 میگاواٹ–لیپہ ڈیم 3 میگاواٹ۔۔کل پیداوار 1523 میگاواٹ فی گھنٹہ ہے زیر تعمیر ڈیم۔۔کوہالہ ہائیڈور 1100 میگاواٹ-نیلم جہلم 969 میگاواٹ-پترند ہیڈرو پلانٹ مظفرآباد 147 میگاواٹ۔۔کوٹلی ہائیڈور 100 میگاواٹ–گل پور ہائیڈور 100 میگاواٹ–آٹھمقام ڈیم 350 میگاواٹ۔۔کروٹ ڈیم 640 میگاواٹ–کل 3469 میگاواٹ آزاد پتن ہاہیڈرو کا بھی سروۓ ہو چُکا ہےیہ کل پیداوار بنتی ہے 4932 میگاواٹ ان ڈیموں کی مدت تکمیل 2018 تا 2025 ہے یہ تمام اعداد و شمار پاک چین اکنامک کو اپرٹیو پلاننگ سے اخذ کیئے ہیں۔۔۔۔آزاد کشمیر میں موجودہ اور زیر تعمیر منصوبے 4932 میگاواٹ بجلی پیدا کرئیں گے‎آزاد ‎کشمیر ‎کے ‎موجودہ ‎اور ‎زیر ‎تکمیل ‎منصوبے ‎سال ‎میں 2341674144000 ‎روپے ‎کی ‎بجلی ‎پیدا ‎کرئیں ‎گے ‎یہ ‎حساب ‎واپڈا ‎کی ‎قیمت ‎کے ‎حساب ‎سے ‎لگایا ‎گیا ‎ہے ‎واپڈا ‎کے ‎حساب ‎سے ‎بجلی ‎کی ‎سالانہ ‎پیداواری ‎مالیت ‎ 23 ‎کھرب 41 ‎ارب 67 ‎کروڑ 41 ‎لاکھ 44 ‎ہزار ‎روپے بنتی ہے‎اور ‎آزاد ‎کشمیر ‎کا ‎سالانہ ‎بجٹ 2016 اور 2017 میں37 ارب تھا جو اب بڑھکر 94 ارب روپے سے کچھ زیادہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

سیاحت
جدید دنیا میں کسی بھی ملک کی معشیت میں سیاحت ایک بہت اہم رول ادا کرتی ہے آزاد کشمیر کے اندر یورپ سے بھی خوبصورت سیاحتی مقامات موجود ہیں جن سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اگر دو یا تین انٹرنيشنل ایرپورٹس کی تعمیر کے علاوہ سڑکیں، پارکس چیر لفٹس، ہوٹلز،شاپنگ مال اور جدید ٹرانپسورٹ کی سہولیتں فراہم کی جائیں اس سے لاکھوں ڈالر کا زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے

افرادی قوت اور زرمبادلہ

آزاد کشمیر کے اسی پرسنٹ لوگ اعلی تعیلم یافتہ ہیں جو باہر کے ممالک میں تمام چھوٹی بڑی پوسٹوں پر کام کرتے ہیں جو اصل سرمایہ ہیں کیونکہ دنیا میں اس وقت نالج اکنامی کا سکہ چل رہا ہے لہذا ان تربیت یافتہ ماہرین کو اپنی ریاست کے اندر نوکریاں دیکر اس سے حقیقی فائدہ لیا جا سکتا ہے جن سے اس وقت دوسرۓ ممالک بہتر ماحول کی وجہ سے فائدہ اٹھا کر اپنے ممالک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر رہے ہیں۔ یہ لوگ ہر سال باہر کے ممالک سے سالانہ اربوں روپے کا زرمبادلہ بجھتے ہیں جس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اس کے لیے عوامی شعور اور اپنے وسائل کی سمجھ بنیادی شرط ہے جس کے بغیر حقیقی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔

زراعت  
آزاد کشمیر میں لوگوں کی اکثریت پیشے کے لحاظ سے زمیندار ہے لیکن موجودہ وقت میں زراعت مکمل زوال پزیر ہے یہاں پر دال سبزیوں، پھلوں،زیتون اور مکی کے تیل، زعفران اور اسکے علاوہ ادویات میں استعمال ہونے والے پودوں کے علاوہ فش فارمنگ،
پولٹری اور دودھ دینے والے جانوروں کے فارم حکومتی تعاون سے بناۓ جا سکتے ہیں۔۔۔۔

کاروبار  
عام پڑھنے لکھے لوگوں کو بجاۓ نوکریوں کی طرف بھاگنے کے کاروبار کی طرف توجہ دینی چاہیے مقامی لوگوں کو کاروبار دیاجانا چاہیے اس رجحان کو بڑھانے کے لیے حکومتی سرپرستی بہت ضروری ہوتی ہے

بیرونی تجارت  
ریاست جموں و کشمیر کی جغرافیای پوزیشن تجارت کے لیے انتہای موزوں ہے ریاست کے پڑوس میں دنیا کی دو بڑی ریاستیں چین اور ہندوستان موجود ہیں جو دنیا کو انتہای سستا مال فروخت کرتے ہیں ان سے تجارتی تعلقات کی بدولت نہ صرف سستی اشیا مل سکتی ہیں بلکہ لاکھوں نوکریاں بھی پیدا کی جا سکتی ہیں لیکن اسکے لیے بھی داخلی خودمختاری لے کر اس پر کام کرنا ہو گا۔۔۔۔۔!!!

صنعت اور پیداوار 
دنیا کا کوی بھی ملک اس مشینی اور صنعتی دور میں صنعتی پیداور کے بغیر اگے نہیں بڑھ سکتا ہے اسکے لیے زرعی اجناس جن میں مکی کا تیل زیتون کا تیل نکالنے والی صنعت،پھلوں سبزیوں کو محفوظ کرنے والی صنعیتں،شالوں کی صنعت،ادوایات بنانے کی صنعت، سمنیٹ سازی،چمڑا سازی، لیکڑی اور فرنیچر سازی اسکے علاوہ بھی چھوٹی بڑی مختلف صنعتوں کا قیام عمل میں لایا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔!!!

تعمیراتی صنعت
جدید سائنسی بنیادوں پر بنیادی ڈھانچے کی تعمیرات اج کے دور میں صنعت کا درجہ اختیار کر چکی ہیں چین کی معشیت میں یہ صنعت پیداوار کے بعد سب سے زیادہ نوکریاں پیدا کر رہی ہے اسکے علاوہ خلیجی ممالک میں سب سے زیادہ نوکریاں اسی صنعت کی پیدا کردہ ہوتی ہیں اس انڈسٹری سے دوسری ہزاروں قسم کی صنعتیں بھی چلتی ہیں جس سے روزگار بڑھتا ہے اس کے بغیر سیاحت اور ترقی اور نہ ہی اسکے بغیر حقیقی ازادی اور خود کفالت کی منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔۔

ان تمام وسائل سے حقیقی فائدہ تبھی اٹھایا جا سکتا ہے جب عوام باشعور ہو کر ماضی کی گمراہ کن تاریخی کہانیوں اور اندھی عقیدت سے نکل کر مخلص اور وژنری لیڈر شپ کا انتخاب کرۓ گی جو ریاست کی بنیادوں کو بااختیار کر کے اسکو جدید خطوط پر استوار کر سکے گی