209

آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے بعد اب مستقبل کیا ہو گا؟

انڈیا کی جانب سے ریاست جموں کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم (بائی فیکیشن) کرتے ہوئے یونین ٹیریٹری قرار دینا اور ریاستی درجہ ختم کرنا قابل مذمت ہے، اس کے ساتھ ہی یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ یہ بھارتی حکومت کا ایک کمزور اور سیاسی فیصلہ ہے جو خود بھارتی آئین سے بھی متصادم ہے، امید کی جا سکتی ہیکہ جلد اس اقدام کو بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا جہاں بھارتی حکومت کے پاس بہت محدود اور کمزور آئینی اور قانونی دلائل ہونگے،

ایسی صورتحال میں بہت مشکل ہیکہ یہ فیصلہ برقرار رہ پائے، قانونی پہلوں سے ہٹ کر اس فیصلے سے بھارت پر مقامی اور بین الاقوامی سطح پر مہلک اثرات مرتب ہونگے، سب سے بڑا چیلنج مقامی ہو گا، خاص طور پر ویلی میں بھارت کی جو رہی سہی حمایت تھی وہ جاتی رہے گی اور کشمیر ویلی جو بھارت کیلئے ایک جزوقتی یا مخصوص موسم میں ایک مسئلہ ہوا کرتا تھا وہ مستقل شکل اختیار کر لے گا .

اس فیصلے کے منفی اثرات بھارتی یونین پر بھی پڑیں گے، ریاستوں اور مرکز کے درمیان بداعتمادی اور شکوک و شہبات میں ایک خطرناک اضافہ ہو گا کہ ریاست جموں کشمیر جو بھارتی آئین میں دیگر ریاستوں کی نسبت ایک مضبوط آئینی و قانونی حیثیت کی حامل تھی اگر اسے جمہوری اور آئینی تقاضے پورے کیئے بغیر ایک تانا شاہی حکم سے ختم کیا جا سکتا ہے تو کل منی پور، ناگا لینڈ، ہریانہ یا دیگر ریاستوں کی باری ہو گی ۔

اس فیصلے کے بعد بھارت ایک کمزور سفارتی وکٹ پر ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں، پاکستان اور چین کیساتھ دوطرفہ معاہدات کے ہوتے ہوئے بھارت کا یوں یکطرفہ فیصلہ کرنا بھی ایک ایسا عمل ہے جو سفارتی محاذ پر بھارت کی مشکلات میں اضافے کا سبب بنے گا، ابھی ریاست جموں کشمیر سے کوئی باقائدہ عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا اس کے باوجود عالمی سطح پر بھارت کے اس فیصلے پر تنقید اور تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، اقوام متحدہ، امریکہ اور چین کا ردعمل کسی بھی طور بھارت کیلئے حوصلہ افراء نہیں ہے بلکہ یہ اس طرف اشارہ ہیکہ آنے والا وقت بھارت پر بھاری رہے گا

انڈین سپریم کورٹ جہاں اس حکومتی اقدام پر فیصلہ لیتے ہوئے اس کے قانونی اور آئینی پہلو دیکھے گی وہیں اوپر بیان کیئے گئے حالات بھی ان کی رائے پر اثرانداز ہونگے، تیسری دنیا کے عدالتی نظام پر زیادہ اعتماد نہیں کیا جا سکتا لیکن بھارتی اعلی عدلیہ اس حوالے سے اچھی شہرت رکھتی ہے، ریاست جموں کشمیر کا ریاستی تشخص ختم کرنے کا بھارتی اقدام اگر سپریم کورٹ میں چیلنج ہوتا ہے تو یقینا بھارتی حکومت یہ مقدمہ ہار جائے گی اور بھارتی زیرانتظام جموں کشمیر اپنی جولائی 2019 کی پوزیشن پر واپس آ جائے گی،

اس ساری بات چیت کا یہ مقصد نہیں ہیکہ ہم ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بھارتی عدالت کے فیصلے کے انتظار میں بیٹھے رہیں، یہ فیصلہ اگر حکومت کیخلاف آ بھی جائے تو ریاست جموں کشمیر پھر بھی مقبوضہ، منقسم اور محکوم ہی ہو گی، اب جبکہ ریاست جموں کشمیر ہر خاص و عام کا موضوع گفتگو ہے تو ہمیں چاہیے کہ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارتی اور پاکستاخی موقف کی الائشوں سے پاک ایک خالص مقامی بیانیہ کو لیکر ایک ایسی تحریک کھڑی کرنے کی کوشش کی جائے جو قومی آزادی، ریاستی وحدت کی بحالی اور مکمل خودمختاری پر منتج ہو