245

آزاد کشمیر حکومت کا نیلم ویلی میں جنگلات کے کٹاؤ کا خطرناک منصوبہ

آزاد کشمیر حکومت نے نیلم ویلی سے دس لاکھ مربع فٹ کی لکڑی کی نکاسی کے ٹینڈرز جاری کیے ہیں۔ انتہائی قیمتی لکڑی کے حامل ان جنگلات سے منصوبے کے تحت کم از کم ایک لاکھ درختوں کو کاٹا جائے گا جو کہ موجودہ حکومت کا ایک بدترین کارنامہ ہو گا۔ نیلم ویلی میں پہلے ہی جنگلات کا کٹاؤ بدترین حال میں ہے مقامی لوگ تو اسے یہ تو ایندھن کے لیے استعمال کرتے ہیں یا پھر تعمیر کے لیے مگر محمکہ جنگلات اسے مظفرآباد سے کراچی تک اپنے آقاؤں کو پہنچانے میں ہمہ جہت رہتا ہے۔

نیلم ویلی کے جنگلات میں دیودار کی انتہائی نایاب اور مہنگی نسل پائی جاتی ہیں جس کی لکڑی بیش قیمتی ہے۔ اس سے قبل آزاد کشمیر میں اکلاسک نامی ادارا اس لکڑی کی نکاسی کا ذمہ دار تھا مگر گزشتہ برس اس کو ختم کر دیا گیا ہے جس مستعفی کیے گئے ملازمین کو اب تگ حسب وعدہ پنشنز کا اجراء نہیں کیا گیا ہے۔ کچھ لوگ اس پر اعتراض اٹھاتے ہیں کہ پھر حکومت اپنا بجٹ اور خسارہ کہاں سے پورا کرے تو آزاد کشمیر حکومت کا صرف منگلا ڈیم سے سالانہ ریونیو ساڑھے چار سو ارب ہے جب کہ اس وقت نیلم جہلم بھی اپنی مکمل کیپسٹی میں کام کر رہا ہے۔

نیلم ویلی کے جنگلات کے لیے حکومت دشمنی کوئی نئی روش نہیں ہے بلکہ یہ روایت کئی دہائیوں سے برقرار ہے۔ پاکستان کی سول بیوروکریسی ہو یا م – مافیا ان سب کے گھر نیلم سے جنگلات کی کٹائی کے بعد اسلام باد، لاہور اور کراچی کے بحریہ اور ڈی ایچ ایز میں استعمال کی جاتی ہے۔ گزشتہ برس ایک دوست نے چونکا دینے والا انکشاف کیا تھا کہ صرف اپر نیلم ویلی سے ایک رات میں تقریبا پانچ ہزار درخت کاٹے گئے ہیں اور جب کچھ صحافیوں کو اس پر آواز اٹھانے کی کوشش کی تو اسے زبردستی دبا دیا گیا۔

نیلم ویلی سے جنگلات پہلے ہی تقریبا ختم ہو چکے ہیں، محمکہ جنگلات ایک طاقتور اور بااثر ادارہ ہے حتی کہ محکمہ جنگلات کا رینج آفیسر بعض اوقات آزاد کشمیر کے سیکرٹری سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے لیکن نئے درخت لگانے کی کوئی خاص کوشش نہیں کی جا رہی ہے۔ ایک طرف جنگلات کی کٹائی سے مقامی صنعت کو نقصان ہو رہا ہے تو دوسری طرف ماحولیات کو شدید خطرہ لائق ہے جنگلی حیات تقریبا ناپید ہو چکی ہیں جبکہ لینڈ سلائیڈنگ بھی ایک بڑا قضیہ بن گیا ہے۔

مقامی سطح پر صرف لکڑی سے جڑی صنعت کو ہی تھوڑا بہت مقام حاصل ہے حکومت اس طرف توجہ دینے اور اس کو ترویج دینے کے بجائے لکڑی کی نکاسی کرتی ہے اور اسے کم قیمت پر پاکستان میں فروخت کیا جاتا ہے اس میں سے زیادہ تر تحفے کے طور پر آقاؤں کو پیش کیا جاتا ہے جس سے واحد مقامی صنعت بھی شدید خطرات سے دوچار ہے۔ جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے گزشتہ چند سالون میں جہان پانی میں واضح کمی واقع ہوئی ہے وہیں درجہ حرارت بھی بتدریج بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے مقامی فصلیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

نیلم ویلی کے جنگلات صرف نیلم ویلی ہی کے نہیں آزاد کشمیر، پنجاب اور سندھ کی بقاء کے بھی ضامن ہیں جنگلات کے خاتمے کا یہ خطرناک منصوبہ ہر حال میں روکنا ہو گا وگرنہ چند برس بعد خطہ میں جنگلات کا صرف نام باقی رہ جائے گا۔