208

ریاست جموں کشمیر : جنت میں جہنم کا منظر

خطہ جموں کشمیر ہزاروں سالہ انسانی تاریخ کے ارتقاء کا نام ہے. یہاں مختلف مذاہب، ثقافتیں، قوم و قومیتوں نے جنم لیا. اس خطہ کے لوگ امن پسندی میں اپنی مثال آپ ہیں. یہ خطہ ترقی کے میدان میں کچھ زیادہ آگئے نہ بڑھ سکا کیونکہ اسکی خوبصورتی و وسائل کی وجہ سے یہاں بیرونی قبضہ زیادہ اور آزادی کم ہی موجود رہی ہے. یہ خطہ بڑے تسلسل کے اندر جاگیردارانہ عہد سے گزر کر جمہوری عہد کی طرف سفر کر رہا تھا. گھریلو صنعتی مشینی صنعت میں ترقی کر رہی تھی. ہر آنے والا دن عوامی جیت اور حکمرانہ شکست کی تاریخ لکھ رہا تھا مگر جنگ عظیم دوم میں برطانوی شکست کے باعث پوری دنیا میں جغرافیائی تبدیلیاں واقع ہوئی جسکی وجہ سے ماضی کا تسلسل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر تخریب کی تاریک راہوں پر چل پڑا. جنگ عظیم دوم کے بعد برطانیہ کا برائے راست برِصغیر پر قبضہ ممکن نہیں رہا اس لیے برطانیہ کا جانا لازم ہوگیا تھا۔ یاد رہے برطانیہ نے جہاں جہاں قبضہ کیے اور جب انکو چھوڑا تو وہاں پر تقسیم کی ایک لمبی داستان قائم کی۔ جسکی وجہ نئی نوآبادیاتی پالیسیاں تھیں۔

کچھ ایسا ہی برصغیر کے ساتھ کیا گیا اور اسکو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔مزید برصغیر کی 565 ریاستوں کے سربراہوں کو یہ اختیار دے دیا گیا کہ وہ ہندوستان پاکستان یا خودمختاری کا انتخاب کر لیں۔ ریاست جوناگڑھ، حیدرآباد دکن اور جموں کشمیر کے سربراہوں نےخودمختاری کا انتخاب کیا جبکہ باقی ریاستوں کو ہندوستان و پاکستان میں ضم کر دیا گیا۔ اب ان تین ریاستوں کو بھی ہندوستان و پاکستان نے بزور طاقت ضم کر لیا مگر ریاست جموں کشمیر پر دونوں قوتیں آمنے سامنے آگئی جسکے باعث ہندوستان و پاکستان نے پہلی جنگ 1948 میں جموں کشمیر میں لڑی۔ ہندوستان نے مہاراجہ کا ہندوستان کے ساتھ الحاق کا جھوٹا پروپیگنڈہ کیا تو پاکستان نے جھوٹے ریفرنڈم کے نام پر گلگت بلتستان کو ضم کرنے کی کوششیش تیز کر دیں۔ یہاں موجود تیسرا رجحان یعنی خودمختاری کا رجحان طاقتور ثابت ہوا اور عوام احتجاج اور تحریکوں نے جنم لیا جس کے ڈر کی بنیاد پر دونوں ممالک اقوام متحدہ میں چلے گئے۔

سب سے پہلے دونوں ممالک نے اقوام متحدہ میں ہماری نمائندگی ختم کروائی اور پھر مسئلہ جموں کشمیر کے فریق کے طور پرریاست جموں کشمیر کے لوگوں کو بھٹو دور میں ماننے سے انکار کرکہ اسکو سرحدی مسئلہ بنا کر Indo-Pak Issue کا نام دے دیا گیا۔ اور یوں یہ مسئلہ عالمی دنیا کے سامنے سہہ فریقی سے دو فریقین کے درمیان محدود ہوکر رہ گیا۔ 

صرف دو روز میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے دسیوں مکان جل کر راکھ ہو چکے ہیں۔

شملہ و تاشقند معاہدوں کے بعد ریاست جموں کشمیر کو عالمی اداروں نے بھی پس پشت ڈال دیا۔ انسانی حقوق کی رپورٹ شائع ہوا کرتی تھی مگر عالمی ساز باز سے اب کی بار اسکو بھی روک دیا گیا۔
یہاں مختلف اوقات میں مختلف مگر جاندار تحریکوں نے جنم لیا مگر کوئی مستقل تنظیم نہ ہونے کے باعث بزور طاقت ہندوستان و پاکستان کی طرف سے کچل دیا گیا۔

ہندوستان و پاکستان کے حکمران طبقے نے مسئلہ جموں کشمیر کو اپنے اقتدار کو طول بخشنے کے لیئے استعمال کیا۔ عوام کے جذبات کا استعمال کرکہ اسکو انسانی و قومی مسئلہ سے باہر رکھ کر مذہبی مسئلہ بنا دیا گیا۔ ویلی کشمیر میں برہمن مسلم جنگ کروا کر دونوں ممالک نے اپنی عوام کی جذباتی بنیادوں پر اسکی وابستگی بنائی اور ہماری وادی کو جہنم بنا دیا۔ مسئلہ جموں کشمیر دو کروڑ انسانی جانوں کا مسئلہ تھا مگر اسکو گنگاہ دریا اور مسلم آبادی کی بنیاد پر پرکھنا شروع کر دیا گیا جسکے باعث دونوں اطراف کی عوام حکمرانہ چالوں کا شکار بنتی گئی اور حقیقت پسندوں کو غدار کافر ایجنڈ کے فتوی دیتے قابضوں کو طاقتور کرتی رہی۔

آج خطہ جموں کشمیر الیکشن لڑنے ، جیتنے بجٹ میں حصہ لینے جیسے مذموم مقاصد کے لیئے دونوں اطراف استعمال کیا جاتا ہے۔ مودی مسئلہ جموں کشمیر کی بنیاد بنا کر الیکشن کرتے رہے اور یہاں عمران خان” مودی کا جو یار ہے” “غدار ہے” ” غدار ہے” کے نعرے لگا کر عوام کے جذبات کا استعمال کرتے رہے ہیں۔ جبکہ بعد میں مودی کی حکومت بننے کے لیئے خواہشات کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں۔

امریکہ بھی مسئلہ ریاست جموں کشمیر کی بنیاد پر یہاں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرتا رہا ہے۔ خطہ کی سیاست نے گزشتہ کچھ عرصہ سے امریکہ کو یہاں سے باہر نکال دیا تھا۔ افغانستان میں جانے کا وعدہ کرچکا تھا۔ تو دوبارہ اس خطہ میں آنے کے لیئے اس نے بھی ثالثی کی پیش کش کی جسکو پاکستان نے قبول کر لیا مگر ہندوستان نے مسترد کرکہ ماضی کے معاہدے کو یاد کرواتے ہوئے اسکو دو فریقین کے درمیان رکھنے کی یاد دہانی کروانا شروع کر دی۔

پاکستان میں آرمی چیف کی مدت بھی ختم ہونے والی ہے اور اسکو توسیع دینے کے لیئے بھی کوئی جوازیت فراہم کی جارہی ہے۔ اس طرح عالمی سامراجی ثالثی اور آرمی چیف کی توسیع کو سیدھا سیدھا جوازیت فراہم کرنے کے لیئے چند دنوں سے وادی کشمیر جہنم کا سماء پیش کر رہی ہے۔ بھارت کی جانب سے آبادیوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ پاکستان کی جانب سے انکی چوکیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ جسکا نقصان انسانی جانوں اور مالی نقصان کی صورت ریاست جموں کشمیر کی عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

تو نے اجڑی ہوئی جنت کو نہ دیکھا ہو تو
آ میرے جلتے ہوئے پیارے کشمیر کو دیکھ

دونوں ممالک بڑی بھیانک سازش و اتحاد سے جموں کشمیر پر مک مکا کی پالیسی اپنائے بیٹھے ہیں۔ بھارت کی جانب سے پینتیس اے 35A کے ساتھ چھیڑ خانی کی جارہی ہے تاکہ انڈین مقبوضہ جموں کشمیر کی حیثیت تبدیلی کی جاسکے جبکہ پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر کے قوم پرستوں و ترقی پسندوں پر قانونی و عدالتی کاروئیاں لا کر گھیرا تنگ کیا جارہا ہے ، گلگت بلتستان سے سی پیک کا گزر ہو رہا اسکو قانونی جواز دینے کے لیئے ترقی پسندوں کو جیلوں میں ڈالا جارہا ہے یا مختلف دفعات لگا کر پریشان کیا جارہا ہے۔

ہندوستان و پاکستان پس پردہ جموں کشمیر کے مسئلہ پر اتحادی ہیں اور اسکو ختمی شکل دینا چاہتے ہیں۔ پاکستان گلگت بلتستان کو اپنانا چاہتا ہے جبکہ ہندوستان جموں کو۔ نیلم ودیگر جموں کشمیر کی خونی لکیر پر کشیدگی کی صورت عالمی دنیا کو ملوث کرنے کی منصوبہ بندی گئی ہے۔ جموں کشمیر کے قدرتی حسن کو بگاڑنا، یہاں کے وسائل کو لوٹنا، پسماندگی جہالت کو طول بخش کر اپنے اقتدار کو محفوظ رکھنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔

عام آدمی کسی بھی حادثہ و جنگ کی بنیاد میں نہیں جاتا اور نہ ہی وہ پس پردہ دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ کل سے سوشل میڈیا پر احتجاج کیا جارہا ہے کہ میڈیا اسکو رپورٹ کیوں نہیں کر رہا بلکہ میڈیا کہ خلاف احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی ملک کی صحافت ریاستی بیانیہ کے تابع ہوتی ہے۔ ریاستی بیانیہ اس وقت مذموم مقاصد چھپائے سامراجیت کو اس خطہ میں ثالثی کی جوازیت فراہم کرکہ اپنی ٹوٹی معیشت کو طاقتور کرنے کے ساتھ ساتھ آرمی چیف کی توسیع، سی پیک کی قانونی و مستقل حیثیت کے حصول کے لیئے کاشاں ہے۔

عام آدمی میں جاکر یہاں کی ترقی پسندی کو ان حکمرانہ مقاصد کو نہ صرف جھوٹ ثابت کرنا ہوگا بلکہ تاریخ کا حقیقی و درست سبق دینا ہوگا تاکہ جذبات سے نکل کر حقیقی و انسانی بنیادوں پر سوچا سمجھا جاسکے۔ یہ جنگ صرف ریاست جموں کشمیر کے عوام کی جنگ نہیں بلکہ ہندوستان و پاکستان کی عوام کی معیشت کے ساتھ جڑی جنگ ہے۔ ہندوستان و پاکستان کی عوام کے پیسے اس خطہ میں حکمران ایک بڑی فوجی طاقت پر خرچ کر دیتے ہیں جبکہ یہی روپے پیسے انکی بنیادی ضروریات زندگی پر خرچ کیے جائیں تو عام آدمی کے معیار زندگی پر واضح نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔ مگر ایسا کرنے سے انکو الیکشن میں کیسے جیت ملے گئی اور عالمی طاقتوں کو یہاں اپنی نمبرداریاں اور اسلحہ بیچنے کا موقع کیسے ملے گا؟

یہ جنگ ہندوستان و پاکستان کی عوام کے ساتھ جڑت بنا کر لڑنی ہوگئی تب ہی جاکر ان فسادات سے جان چھوٹ پائے گئی اور تینوں خطوں کے لوگ سکھ کا سانس لے پائیں گئے۔