Abdul Hakeem Kashmiri 142

حکومت آزادکشمیر بجٹ 2019-20۔ایک جائزہ > عبدالحکیم کشمیری

ساحر لدھیانوی نے کہا تھا ’’بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی ‘‘ با الفاظ دیگر’’ بھوک تہذیب کے آداب بھلا دیتی ہے‘‘ حکومت آزادکشمیر کی طرف سے مالی سال 2019-20کے لیے پیش کردہ بجٹ کے حوالے سے ذمہ داران یا ارباب اختیار کے بارے میں اگر بات کی جائے تو یہ جملہ روز روشن کی طرح درست ہے کہ ان کی بھوک اخلاقیات کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکی ، عوامی مفاد کے دعوے کے ساتھ پیش کیا گیا بجٹ ’’مفاد عام‘‘ نہیں بلکہ ’’مفاد خاص‘‘ کا عکاس ہے ۔

مثلاً وزیراعظم ہائوس کے بجٹ میں 35لاکھ کا اضافہ کیا گیا ۔ دوسرے معنوں میں 9ہزار 589روپے یومیہ اگر یہ اضافہ نہ کیا جاتا تو 20خاندانوں کا ایک سال کے لیے پیٹ پالا جا سکتا تھا ۔۔۔۔ مگر ظل الٰہی تو ظل الٰہی ہوتا ہے ۔۔۔۔ وہاں کروڑوں کی باتیں ہوتی ہیں ، 35لاکھ چھوٹا سا ہندسہ ہے ۔۔۔ چلو اس معاملہ کو چھوڑتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔۔۔۔ چار بااثر شخصیات کی خواہشات کے تابع بجٹ میں محکمہ تعمیرات عامہ شاہرات اور عمارات کے لیے 12ارب 41کروڑ 60لاکھ روپے رکھے گئے ، مجموعتی بجٹ کا حجم 24ارب 50کروڑ۔

اس طرح تعمیرات عامہ کے لیے بجٹ کا 50فیصد سے زائد مختص کیا گیا۔ وزیراعظم نے اپنے یار خاص طارق شعلہ صاحب کو پی این ڈی میں بطور مانیٹر شاید اسی لیے بھیجا تھا۔۔۔۔ یار خاص کی حشرسامانیوں اور اہلیت کے کرشمے اس سے زیادہ کیا ہوں گے کہ 3درجن کے قریب محکموں کو ایک طرف رکھتے ہوئے تعمیرات عامہ کے دو محکموں کو بجٹ کے 50فیصد پر لاکر مخصوص کلاس کے مفادات کو تحفظ دیا۔ دنیابھر کے ممالک کا ترقیاتی بجٹ اٹھا کر دیکھ لیں ایسی کوئی مثال نہیں ملے گی۔۔۔۔ایک اور شاہ کار دیکھتے ہیں،24ارب 50کروڑ کے ترقیاتی عمل کیلئے97ارب روپے کے انتظامی اخراجات۔۔۔۔۔یعنی 20روپے خرچ کرنے کی 80روپے مزدوری۔۔۔۔۔۔اپنے دعوئوں کے برعکس موجودہ حکومت سابقہ ریکارڈ دیکھ لے ماضی میں ترقیاتی بجٹ مجموعی بجٹ کا 25سے 27فیصد ہوتا تھا بجٹ ڈبل ہونے کے باوجود نارمل میزانیہ کے اخرجات میں 5سے 7فیصد اضافہ حکومتی کارکردگی پر سوال اٹھاتا ہے، سوشل سیکٹر ترجیح ہو گی۔۔۔۔ دبنگ دعوے بجٹ سے قبل سامنے آئے ، بجٹ کے سلسلہ میں مشاورت کی خبریں اخبارات کی زینت بنیں ، غالباً وزیراعظم سیکرٹریٹ سے وزراء سے ملاقات کا ایک شیڈول جاری ہوا تھا جس میں ہر وزیر کے لیے 20منٹ رکھے گئے تھے ۔۔۔۔ یہ سارا کھیل ڈراما تھا ۔

وزیراعظم کی بجٹ کے سلسلہ میں مشاورت سے قبل مجوزہ بجٹ محکموں کو بھیجا جا چکا تھا ۔۔۔۔ اور وہی بجٹ ہمارے سامنے ہے ، حقیقت یہ ہے کہ یہ وزیراعظم سمیت چار اہم شخصیات کا بجٹ ہے جس میں ’’حسب روایت‘‘ باقی وزراء نے مجبوری کے تحت انگوٹھا لگایا۔۔۔۔ رہی بات طاقت کا سرچشمہ’’ عوام‘‘ ۔۔۔۔ان کے لیے وزیر خزانہ کا طرز سخن ہی حسب روایت بھر پور انداز میں بجٹ کا حصہ ہے ، سوشل سیکٹر میں وویمن ڈویلپمنٹ کا بجٹ 20کروڑ، 50فیصد آبادی کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے صرف 20کروڑ جبکہ گزشتہ سال 9کروڑ کی گاڑیاں خریدی گئیں ، یہ ترجیحات ہیں ۔ 

سوشل سیکٹر کا ایک اور شعبہ شہری اور دیہی علاقوں میں پانی کی فراہمی اس بارے میں دلچسپ اعداد و شمار موجود ہیں جس کی تفصیل پھر کبھی ۔98کروڑ روپے صحت کے شعبہ کے اپریٹنگ سسٹم کے اخراجات ہیں، صحت عامہ کا ترقیاتی بجٹ 75کروڑ رکھا گیا جبکہ اس محکمے کے غیر ترقیاتی (تنخواہیں الائونس اور دیگر ) اخراجات 9ارب 69کروڑ ہیں، سیاحت ، آئی ٹی ، زراعت امور حیوانات میں اصلاحات بلکہ ان محکموں کو انڈسٹری کی حیثیت دینے کے حوالے سے بجٹ میں کوئی نئی چیز نہیں ، بجٹ کے اعداد و شمار نے جہاں ارباب اختیار کے بہت سے ’’سچ ‘‘غلط ثابت کیے وہاں واٹر یوزج چارجز کے حوالے سے معاہدہ کرنے کا دعویٰ بھی بے نقاب ہوا ۔

بجٹ بک کے مطابق حکومت آزادکشمیر کو واٹر یوزج چارج کی مد میں 600ملین یعنی 60کروڑ روپے ملیں گے ، گزشتہ سے پیوستہ سال اس مد میں ایک ارب 10کروڑ ملے تھے یہ 50کروڑ کی رقم کیسے کم ہوئی ، پہاڑوں پر اس سال برف تو کافی پڑی ہے ؟؟ اس سلسلہ میں اہم بات اکنامک کوآرڈی نیشن کمیٹی( ای سی سی) سے منظوری کے بعد واٹر یوزج چارجز کا معاہدہ نہ ہونا ہے۔ کوئی چھ ماہ قبل کا عرصہ تھا جب حکومتی ترجمان معاہدے کی خوش خبری سنا رہے تھے۔۔۔اور آج بجٹ بک دیکھ کر پتہ چلا کہ معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے آزادکشمیر کو 12ارب سے زائد رقم سے محروم ہونا پڑا۔

منگلا نیلم جہلم اور پترینڈسے سالانہ 11ارب یونٹ سے زائد بجلی پیدا ہوتی ہے ، اگر معاہدہ ہو جاتا تو ہمیں 12ارب سے زائد رقم ملتی ، سچ یہ ہے کہ بجٹ میں چند شخصیات کے مفادات کا تحفظ ہے ظل الٰہی جن سے خوش نہیں ان کی تجاویز بجٹ کا حصہ نہیں بنیں اپوزیشن نے اسے مایوس کن ضرور قراردیا ہے ۔مگر اس کی وجہ اور ہے ۔۔۔۔۔ اس بجٹ میں اپوزیشن ممبران کا حصہ شامل نہیںاگر ہے بھی تو خواہشات سے بہت کم ۔۔۔۔اگر معاملات طے ہو گئے تو آج جنہوں نے اسے مسترد کیا کل وہ اپنا حصہ لے کر خاموش ہو جائیں گے ، یہ تسلسل جاری رہے گا ، اس وقت تک جب تک ہم میں سے ہر ایک اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کے لیے سامنے نہیں آتا۔۔۔۔ زندہ باد، آوے ہی آوے ، دیکھو دیکھو کون آیا ، زندہ ہے ۔۔۔۔ہمیں اس سے نکل کر اپنے حق کے لیے نکلنا ہو گا۔