81

کشمیری سماج اور حصول تعلیم کی دوڑ

الف اعلان کی جانب سے حالیہ سروے میں یہ سامنے آیا ہے کہ آزاد کشمیر کی عوام مروجہ تعلیمی نظام کے حصول میں سر فہرست ہے. یہ نتائج کشمیری عوام کے لیے خوش آئند ہیں یا اس کے برعکس آئیے اس موضوع پر بحث کرنے کی کوشش کرتے ہیں.

کسی بھی سماج کا بالائی ڈھانچہ جو کہ سماجی فکر و فلسفہ ، روایات ، خیالات ، تعلیمی نظام ، معاشرتی نظام ، سیاسی نظام اور دیگر بہت سے عوامل سے مل کر بنتا ہے اور اس کی بنیاد سماج کے زیریں ڈھانچے یعنی معیشت پر ہوتی ہے. جیسے جیسے زیریں ڈھانچے میں تبدیلیاں آتی ہیں ویسے ویسے بالائی ڈھانچہ بھی تبدیل ہوتا ہے.

مندرجہ بالا کلیے کو ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں. انسان کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی معاشی ضروریات کو پورا کرے اپنی ان بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اسے فطرت کے نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے. اور فطرت پر قابو پانے کے لیے فطرت کو سمجھنا ضروری ہے. غرض فطرت کو سمجھنے کے اس عمل کا حاصل علم ہوتا ہے. چونکہ فطرت کے حالات ہر جگہ پر مختلف ہوتے ہیں اس لیے ہر سماج کا حاصل کردہ علم بھی مختلف ہوتا ہے. فطرت کے اس تنوع کی وجہ سے مختلف اقوام اور معاشروں کو اپنے حالات کے مطابق نظام ہاے تعلیم مرتب کرنے پڑتے ہیں.

اگر ہم بالائی اور زیریں ڈھانچے کے اس تعلق کو سمجھ گے ہیں تو آئیے اس اصول کو کشمیری سماج کے حالات پر لاگو کر کے دیکھتے ہیں. پاکستانی زیر تسلط کشمیر کہ اہم وسائل جنگلات ،پانی،معدنیات ،زرخیز زمینیں، مویشی ، سیاحتی مقامات اور افرادی قوت ہیں. یہ تمام وسائل اس قدر وافر مقدار میں موجود ہیں کہ جن کو استعمال میں لا کر ریاست کا ہر فرد محفوظ اور با عزت زندگی گزار سکتا ہے. مگر محض قدرتی وسائل کی موجودگی کسی سماج کے ترقی اور بقا کی ضامن نہیں ہو سکتی بلکے آلات پیداوار جن کے ذریعہ قدرتی وسائل کو استعمال میں لایا جاتا ہے ان کی موجودگی لازمی شرط ہے. آلات پیداوار (جو کہ آج کے دور میں انڈسٹری اور جدید مشینری ہے ) کے عدم موجودگی سے پیداوار کا عمل ناممکن ہو جاتا ہے. کسی سماج میں پیداواری عمل نہ ہونے کا مطلب سماج کے زیریں ڈھانچے کی عدم دستیابی ہے. جس کہ بغیر بالائی ڈھانچہ تشکیل پانا محال ہے. سماجیات کہ ماہرین کہ تحت زیریں ڈھانچے کے بغیر سماج تشکیل نہیں پا سکتا. جس طرح ایک جیل میں ساتھ رہنے والے قیدی ایک خاندان نہیں ہو سکتے بلکل اسی طرح افراد کا ایک گروہ جو کسی ہمسایے کے زیر تسلط ہو اور اس کا اپنا کوئی پیداواری نظام نہ ہو سماج کی تشکیل نہیں کر سکتا.

ایسے حالات میں حاصل کردہ علم اور علم کی دوڑ میں برتری حکمران طبقے کہ مفاد میں تو ہو سکتا ہے لیکن عام عوام اپنی زندگیوں میں اس سے کوئی پائدار فائدہ نہیں اٹھا سکتی.

کشمیر کی حالیہ صورت حال یہ ہے کہ سارا کا سارا سماج صارف منڈی بن گیا ہے اور باہر سے  آئ ہوئی اشیا اور مصنوعات پر انحصار کرتا ہے. ضروریات زندگی خریدنے کے لیے عوام کو اپنی محنت یا تو ہمسایہ ملک یا پھر یورپ اور مشرق وسطہ کے ممالک میں سستے داموں بیچنی پڑتی ہے. جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کشمیریوں کی ذہنی اور جسمانی محنت سے دوسری اقوام تو مستفید ہو رہی ہیں اور ترقی بھی کر رہی ہیں مگر کشمیر کی اپنی کوئی معاشی بنیادیں نہیں بن پا رہی. لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم کا حصول سماجی حرکت کے قوانین کو مدنظر رکھ کر کیا جائے. اور اگر کسی مسابقت میں آگے بڑھنا ہے تو اپنے معاشی اور سیاسی حقوق کی جدوجہد کی دوڑ میں آگے بڑھا جائے. ایک بار جب ہم اس جدوجہد میں کامیاب ہو گئے تو تب حصول تعلیم عوام پر معاشی بوجھ بن کر نہیں اترے گا.  بلکہ ایک مہذب اور ترقی یافتہ سماج کی تعمیر میں رہنمائی کا کردار ادا کرے گا.