100

لبریشن فرنٹ کی کال پر ہزاروں کشمیری چکوٹھی سیز فائر لائن پر کل پہنچیں گے

مظفرآباد ( YJF News) جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی کال پر شروع ہونیوالا آزادی مارچ آزادکشمیر کے مختلف اضلاع سے ہوتے ہوئے لائن آف کنٹرول سے 34.1 کلومیٹر فاصلے پر گڑھی دوپٹہ پہنچ چُکا ہے۔

یہ آزادی مارچ آج کی رات گڑھی دوپٹہ کے ڈگری کالج میں پڑاؤ کرے گا جہاں سے کل صبح ( اتوار ) یہ مارچ لائن آف کنٹرول عبور کرنے کی غرض سے چکوٹھی لائن آف کنٹرول کا رُخ کرے گا ۔

مارچ کے شرکاء کا جوش و خروش قابل تعریف ہے جو دو دن سے مسلسل سفر کرنے کے باوجود توانائی سے بھرپور نظر آئے۔
گڑھی دوپٹہ پہنچنے پر شرکاء نے بھرپور نعرے بازی کی۔
گڑھی دوپٹہ پہنچنے ہر مارچ کا بھرپور استقبال کیا گیا۔

آج دن کو ہونے والے مارچ میں ایک دو چھوٹے موٹے بدمزگی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے تاہم تفصیلات سامنے آنے پر معلوم ہوا کہ اُن واقعات میں ملوث افراد کا تعلق بھی ایک نیشنلسٹ تنظیم سے تھا اور وہ جان بوجھ کر ایسی فضا پیدا کر رہے تھے۔ جن کو مارچ کے شرکاء اور پولیس نے فوری کرروائی کرتے ہوئے باہر نکال دیا۔
جس کے بعد آزادی مارچ کے مرکزی اسٹیج سے یہ اعلان بھی کیا گیا کہ

یہ آزادی مارچ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی کال ہے اس میں ہر شخص ( کسی بھی پارٹی ، جماعت) شریک ہو سکتا ہے۔ لیکن نا ہی کای دوسری پارٹی کا جھنڈا لہرا سکتا ہے اور نا ہی متنازعہ نعرے لگا سکتا ہے۔

دوسری جانب لبریشن فرنٹ کے آزادی کشمیر مارچ کو چکوٹھی سے سیزفائر لائن توڑ کر مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے کی کوشش ناکام بنانے کے لیے پولیس نے چناری جسکول پل پر بھاری کنٹینر لگا کر شاہراہ سری نگر بند کر دی ہے ۔ اور گاڑیوں کو روکنے کیلئے کنٹینر اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کرکے شرکاء مارچ سے نمٹنے کی تیاری کر لی گئی ہے۔

اس سے قبل 1992میں بھی جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے امان اللہ خان کی قیادت میں سیز فائر لائن توڑنے کے لیے چکوٹھی کنٹرول لائن کی جانب مارچ کیا تھا اور تب بھی شرکا کو اسی مقام پر روکنے کے لیے گولی چلائی گئی تھی جس میں گیارہ افراد کی جانیں ضائع ہو گئی تھیں۔

آنے والی صورت حال کے لیے کل کے دن کا انتظار کرنا ہو گا جو یقیناً بہت اہم ہو گا ۔