Abdul Hakeem Kashmiri 168

تماشائی اور تماشا

ایک کھرب 21ارب 56کروڑ کا ہندسہ ۔۔۔۔۔۔اور گڈ گورننس کے سائن بورڈ کے نیچے ارباب اختیار کا بیلی ڈانس۔۔۔۔۔۔ تقسیم کاروں کی تقسیم بہت دلچسپ ہے، ذہنی برتری کے بل بوتے پر تقسیم کے اس کھیل میں سب سے بڑا کھیل قسمت کا بتایا جاتا ہے،یعنی جسے ملا اس کی قسمت جسے نہ ملا وہ بدقسمت۔ لفظ قسمت ویسے بھی تقسیم کا غلام ہے، بے رحمی ، طمع اور لالچ کی بھوک ، تقسیم کاروں کا بنیادی وصف ہوتا ہے اور اسے لفظ قسمت سے تحفظ دیا جاتا ہے ۔۔۔۔97ارب روپے انتظامی اخراجات ۔۔۔ 40لاکھ کی آبادی میں سے ایک لاکھ لوگوں کے لیے ۔۔۔۔۔باقی رہے 39لاکھ اس میں سے 50ہزار سے ایک لاکھ تک اس سے بالواسطہ استفادہ کرنے والے ۔۔۔۔ ایک لاکھ گھرانوں میں سے فی گھرانہ 5آدمی بھی لگائیں تو ہندسہ 5لاکھ تک پہنچتا ہے ۔

یوں اس تقسیم کے اندر جو تقسیم ہے اس میں بھی چپراسی، چوکیدار، کلرک تک 10فیصد حصہ پہنچتا ہے ، ترقیاتی بجٹ 24ارب 50کروڑ ۔۔۔۔۔ آدھا تعمیرات عامہ شاہرات اور عمارات کے لیے ، ٹھیکیدار اور آفیسران کا حصہ اپنی جگہ مگر جس سیاستدان کے صدقے یہ ملتا ہے اس کا بھی معقول حصہ ہوتا ہے ، لوکل گورنمنٹ 2ارب سے زائد ۔۔۔ محکمہ تعلیم کا ترقیاتی فنڈز 2ارب سے زائد باالفاظ دیگر ساڑھے چوبیس ارب میں سے 17ارب روپے صرف کنکریٹ تعمیرات کے لیے ہے ۔۔۔ مان لیا یہ سب بھی ضروری ہے لیکن اس شرح سے ضروری ہے ؟ اوپر والے 6سے 10لاکھ لوگ بجٹ سے ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹر مستفید ہوں گے، باقی 30لاکھ لوگوں کے لیے کیا ہے ؟ یقینا ارباب اختیار کا دعویٰ ہو گا ۔۔۔ تعلیم اورصحت۔۔۔۔ تعلیم پر 27ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں، معقول بجٹ ہے گویا اس میدان میں بجٹ مسئلہ نہیں گورننس مسئلہ ہے، کیا تین سال میں گورننس میں بہتری آئی، محکمہ تعلیم کے اعدادوشمار اور دعوے کاغذ کے پھولوں کی طرح ہیں، دیکھنے میں جاذب نظر۔۔۔۔۔ مگر ؟ گزشتہ سال کے ایلیمنٹری نتائج کو دیکھ لیں تقریباً 100فیصدکارکردگی ۔

مگر اس کے اندر کیا ہے وہ دیکھا جانا ضروری ہے ، ایسا کیا ہوا کہ ایک دم نتائج 100فیصد ہو گئے ۔۔۔۔ کیا ایک دم ہمارے اساتذہ اکرام کی اہلیت میں 100فیصد اضافہ ہوا ، کیا 2000کےقریب ان تعلیمی اداروں کی چھتیں اور دیگر ادھوری تعمیرات مکمل ہوگئیں کہ ہمارے بچوں کی صلاحیت میں بہترین تعلیمی ماحول کی وجہ سے اچانک اضافہ ہوا ، نہیں۔۔۔۔۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہوا۔

حکومت نے اساتذہ کی سالانہ ترقی نتائج سے مشروط کی ۔۔۔ بغیر کارکردگی بلکہ بھر پور کارکردگی کے باوجود 100فیصد نتائج مشکل تھے ، سو کاریگر ذہن میدان میں اترے، بورڈ کے عملہ سے ملی بھگت کی اور 100فیصد نتائج حاصل کر لیے ، حکومت بھی خوش ،بچے بھی خوش ، والدین بھی خوش، اساتذہ بھی خوش اور وزیر تعلیم بھی خوش۔۔ میٹرک بعد ازاں انٹرمیڈیت اور پھر یونیورسٹیوں کی سطح تک پہنچتے پہنچتے جب یہ راز کھلے گا تو کسے یاد رہے گا اور کون پرواہ کرے گا ، ہمارے تعلیمی اداروں میں جو لائبریریاں ہیں ان کی حالت کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ پوسٹ گریجویٹ کالجز اور ڈگری کالجز میں کسی بڑی ناول نگار کا کوئی ناول موجود نہیں ، بزنس اکائوٹنگ پرنسپلز کی ہمارے پاس جو ایڈیشن ہے وہ سال 1993کا ہے جبکہ دنیا اس وقت 2018کے 13ویں ایڈیشن سے استفادہ کر کے معاشی ترقی کے اہداف حاصل کر رہی ہے۔ آئی ٹی کا مرس میں بھی ہم اسی پوزیشن پر کھڑے ہیں ۔

بجٹ کے باوجود حکومتوں کی یہ بے حسی ڈگری ہولڈر نالائق اور بے روزگار لوگ پیدا کر رہی ہے ، صحت کا مجموعی بجٹ 10ارب سے زائد ہے ، ادویات ، صرف مشینری کے اپریٹنگ سسٹم کے اخراجات کا بجٹ 50کروڑ سے بھی کم ہے ، یعنی جس ضرورت کے لیے آپ 9ارب 50کروڑ خرچ کر رہے ہیں اس کا بجٹ صرف 50کروڑ کا ہندسہ ہے ، پھر اتنے بڑے نظام اور اتنے بڑے بجٹ کا فائدہ۔۔۔۔۔ کیا دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات ہیں ۔۔۔۔ دیہی علاقے توکبھی ترجیح میں نہیں رہے ، کیا شہری علاقوں میں بڑے ہسپتال عالمی معیار کی سہولتیں دے رہے ہیں ۔۔۔ التماس یہ ہے کہ بجٹ کی تقسیم اس طرح کی جائے کہ عام آدمی استفادہ کرے، ایک مرغی ذبح کرنے کے لیے 10قصائی بھرتی کرنا اور پھر اس پر گڈگورننس کے بینر تلے بیلی ڈانس ۔۔۔۔۔یہ تماشا کب تک۔