427

بھارتی مقبوضہ جمون کشمیر میں کیا ہو رہا ہے، آنکھوں دیکھا حال پڑھیے

مودی حکومت کے ذریعے جموں و کشمیرکی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد وادی کی صورت حال کا براہ راست جائزہ لینے کے لیے بھارتی سول سوسائٹی کے ایک چار رکنی وفد نے 9 سے13 اگست تک وہاں کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ اس وفد میں معروف ماہر معاشیات جیاں ڈریز، خواتین کی تنظیم ‘جن وادی مہیلا سمیتی‘  کی صدر میمونہ ملاّ، ‘آل انڈیا پروگریسیو وومن ایسوسی ایشن‘  کی سیکرٹری کویتا کرشنن اور ‘نیشنل الائنس فار پیپلز موومنٹ‘  کے بھائی ومل شامل تھے۔

سول سوسائٹی کے وفد نے گذشتہ دنوں دہلی کے پریس کلب آف انڈیا میں ‘Kashmir Caged’ کے عنوان سے دس صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ جاری کی۔ وہ ایک ویڈیو اور کچھ تصاویر بھی دکھانا چاہتے تھے لیکن کلب کے منتظمین نے اس کی اجازت نہیں دی۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ”ہم نے سری نگر، اننت ناگ، باندی پورا اور پلوامہ کے علاوہ متعدد علاقوں کے گاؤں اور قصبوں میں پانچ دنوں تک سینکڑوں عام افراد سے ملاقات کی۔ ان میں خواتین، طلبہ، دکاندار، صحافی، تاجر، یومیہ مزدوری کرنے والے اور دیگر ریاستوں سے آئے ہوئے مزدورشامل تھے۔ ہم نے وادی میں رہنے والے کشمیری پنڈتوں، سکھوں اور کشمیری مسلمانوں سے بھی بات چیت کی۔ ان سب میں بھارتی حکومت کے فیصلے کے تئیں غم و غصہ واضح تھا۔” اس رپورٹ کے مطابق، ”ریاست میں بی جے پی کے ترجمان کے علاوہ ہمیں کوئی بھی شخص ایسا نہیں ملا جو مودی حکومت کی طرف سے دفعہ 370 کو ختم کرنے کے فیصلے کا حامی ہو۔”

جیاں ڈریز نے بتایاکہ ان سے ملاقات کرنے والے ایک کشمیری نوجوان نے نہایت غصہ میں کہا ”حکومت نے ہم کشمیریوں کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کیا ہے۔ ہمیں قید کر کے ہماری زندگی اور مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرلیا۔”

سرینگر کے جہانگیر چوک کے ایک دکاندار کا کہنا تھا ”کانگریس نے پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا، بی جے پی نے سامنے سے چھرا مارا ہے، انہوں نے ہمارے خلاف کچھ نہیں کیا بلکہ اپنے ہی آئین کا گلا گھونٹا ہے۔ یہ ہندو راشٹر کی سمت میں پہلا  قدم ہے۔”

وفد نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا، ”کشمیر میں اس وقت خاموشی ہے۔ یہ بندوق کی نوک پر خاموشی ہے۔ قبرستان جیسی خاموشی ہے۔ پولیس کی گاڑیاں سرینگر شہر میں گشت کرکے لوگوں کو وارننگ دے رہی تھیں کہ گھر میں محفوظ رہیں۔ کرفیو میں باہر نہ نکلیں۔ عید کے روز بھی سڑکیں اور بازار سنسان پڑے تھے۔ شہر میں جگہ جگہ خاردار تار لگے ہوئے تھے۔ سیاسی جماعتوں کے 600 سے زائد سماجی کارکنوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ ہم نے زیر حراست یا نظر بند بعض سیاسی رہنماوں سے ملاقات کرنے کی کوشش کی لیکن انتظامیہ نے اس کی اجازت نہیں دی۔”

بھارتی سول سوسائٹی کے وفد نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے ”سینکڑوں چھوٹے بچوں کو ان کے گھروں سے آدھی رات کو اٹھالیا گیا۔ اس عمل کا واحد مقصد لوگوں میں خوف وہراس پیدا کرنا ہے۔ بعض لڑکیوں اور خواتین نے شکایت کی کہ پولیس کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے ان کے ساتھ دست دراز ی بھی کی۔”

وفد نے مزید بتایا کہ عام کشمیری بھارتی میڈیا سے بھی کافی ناراض ہیں۔ انہیں شکایت ہے کہ بھارتی میڈیا صرف وہی باتیں بتاتا ہے جو حکومت چاہتی ہے۔ کشمیری شہریوں کے مطابق بھارتی میڈیا خود کو سرینگر کے ایک چھوٹے سے علاقے میں محدود رکھتا ہے اور جب کبھی اس چھوٹے سے علاقے میں حالات معمول کے مطابق دکھائی دیتے ہیں تو وہ اسی کی بنیاد پر کشمیر میں حالات کے معمول پر آجانے کا دعوی کرتا ہے۔ اس سے بڑا جھوٹ اور کچھ نہیں ہوسکتا۔

جیاں ڈریز کا کہناتھا ”کشمیر کی موجودہ صورت حال اس سے یکسر مختلف ہے جو بھارتی حکومت بتارہی ہے۔ وادی کشمیر میں فوج بہت بڑی تعداد میں تعینات ہے۔  ہر دس شہری پر ایک سکیورٹی اہلکار موجود ہے۔ پیلٹ گن بھی وقتا ً فوقتاً فائر کئے جاتے ہیں۔ حکومت کا مقصد دہشت گردوں کو ختم کرنا نہیں بلکہ مقامی لوگوں اور احتجاجی مظاہروں کو قابو میں رکھنا ہے۔”

میمونہ ملاّ نے اس بات پر سخت اعتراض کیا کہ بھارتی میڈیا کشمیر اور کشمیریوں کونہایت پسماندہ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا ”یہ غالباً سب سے بڑا جھوٹ ہے کہ کشمیری خواتین پسماندہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیری لڑکیاں اعلی تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ وہ نہایت مہذب اور سمجھدار ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ یہ نہایت افسوس اور شرم کی بات ہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد حکمراں جماعت بی جے پی کے عام کارکن ہی نہیں بلکہ ایک وزیر اعلی اور ایک رکن اسمبلی نے بھی کشمیری لڑکیوں کے متعلق انتہائی قابل مذمت بیان دیا جبکہ ‘بیٹی بچاو بیٹی پڑھاو‘ کا نعرہ دینے والے وزیر اعظم نریندر مودی اس پر خاموش ہیں۔

دریں اثنا آج جمعہ کے روز یہاں پچیس سے زیادہ گاندھی کی سوچ کے حامی دانشوروں نے مودی حکومت پر جموں و کشمیر پر بندوق اور فوج کی مدد سے حکمرانی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے وہاں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ بات چیت اور اظہار رائے کی آزادی کو بحال کرنے کامطالبہ کیا۔

Courtesy @DW Urdu