حُسن میں تیرے کشش پہلے سی دلدار نہیں
عشق کچھ میرا بھی اب تیراطلبگار نہیں
خُوگری چاکِ گریباں بھی تو باقی نہ رہی
عُمرِ رفتہ بھی تو اب لائقِ اعتبار نہیں
اک لمحے کی وہ دوری ، وہ رگ و جان کا خوف
ہجر ِ مسلسل بھی اب باعث آزار نہیں
حُسن بکتا ہے سرِ شام یہاں کوڑی کے مول
عِشق کا دنیا میں مگر کوئی بھی بازار نہیں
میں تو اپنی یہ محبت جتاﺅں گا ضرور
مانتا ہوں مجھ سے اب تک تجھے پیار نہیں
ایک بوسیدہ عمارت ہےجیسے کوچہ جاناں
اس پہ پوشیدہ وہاں کوئی بھی اسرار نہیں
کام ناصح کا مجھے یاد سے غافل کرنا
بھول جانا بھی مرے عشق کا معیار نہیں
تہمتیں حق کہ خود ہی کمائے ہیں یہ غم
تم بھی پارس کوئی صاحب کردار نہیں
جواداحمدپارس

About Post Author
جواد احمد پارس پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے آزاد فلم ساز، صحافی، لکھاری اور مدیر ہیں۔ انہوں نے بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ وہ ایسی دستاویزی اور کہانی پر مبنی فلمیں بنانے کے لیے جانے جاتے ہیں جن میں کشمیر کی تاریخ، ثقافت، شناخت اور وہاں کے لوگوں کی حقیقی زندگی کو موضوع بنایا جاتا ہے۔ ان فلموں کو سماجی مسائل سے جڑی مؤثر کہانیوں اور سوچے سمجھے بصری انداز کی وجہ سے سراہا گیا ہے۔
وہ کشمیریات اور کشمیریات اردو کے چیف ایڈیٹر بھی ہیں۔ پارس اپنے کام کے ذریعے ان تاریخوں اور کہانیوں کو محفوظ کرنے کے لیے پُرعزم ہیں جنہیں عام طور پر مناسب نمائندگی نہیں ملتی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ کشمیر کے مقامی لوگوں کے متوازن اور گہرے نقطۂ نظر کو عالمی ناظرین تک پہنچانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔