یہ مآب لیچنگ نہیں پولیٹکل لیچنگ ہے

جھار گھنڈ میں ۲۲ سالہ تبریز انصاری کو چوری کا الزام لگا کر قتل کیا گیا۔تاہم یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ کیا چوری کی سزا بھارت میں قتل ہے؟

کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اقوامِ متحدہ کی نئی رپورٹ جاری

غیرقانونی حراست اور نام نہاد محاصرے اورآپریشن انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا موجب اور سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ جیسا کے بھارتی زیر انتظام کشمیر میں خصوصی اختیارات کے حامل ادارے کر رہے ہیں۔

سوچنا ہے منع ، بولنا ہے منع

ریاست پاکستان ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں گرفتاریوں پر واویلا اور اسے بھارت کا مقروع چہرہ سامنے آنے کی بات تو کرتی ہیں مگر اپنے زیر انتظام آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں حقوق کی آواز اٹھانے والوں پر غداری کے مقدمے درج کرتی ہے۔

کیا آزادکشمیر کی محدود شناخت بھی دائو پر ہے

وزیراعظم اپنے ارباب اختیار سے دوٹوک انداز میں یہ بات بھی کریں کہ انتظامی رشتوں کے معاہدوں کی توہین ایسا عمل ہے جس سے نفرت جنم لے گی ، احساس محرومی بڑھےگا۔۔۔۔۔۔۔اور اس کے نتائج کبھی بھی اچھے نہیں ہوتے۔

تماشائی اور تماشا

جس ضرورت کے لیے آپ 9ارب 50کروڑ خرچ کر رہے ہیں اس کا بجٹ صرف 50کروڑ کا ہندسہ ہے ، پھر اتنے بڑے نظام اور اتنے بڑے بجٹ کا فائدہ۔۔۔۔۔ کیا دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات ہیں

حکومت آزادکشمیر بجٹ 2019-20۔ایک جائزہ > عبدالحکیم کشمیری

حکومت آزادکشمیر کی طرف سے مالی سال 2019-20کے لیے پیش کردہ بجٹ کے حوالے سے ذمہ داران یا ارباب اختیار کے بارے میں اگر بات کی جائے تو یہ جملہ روز روشن کی طرح درست ہے کہ ان کی بھوک اخلاقیات کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکی

پی ٹی ایم اور غداری کے فتوے

اب ہوتا کچھ یوں ہے کہ یہ سب کچھ جو اوپر بیان کیا گیا انسان اپنے انفرادی اور اجتماعی فائدے کے لیے کرتا ہے اور اگر انسان کی بنائی ہوئی کسی چیز سے اس کو فائدے کے برعکس نقصان پہنچنے لگے تو وہ اس کو توڑنے یا ختم کرنے میں بھی دیر نہیں کرتا۔ گھر اگر بوسیدہ ہوجائے تو گرا دیا جاتا ہے اور نیا بنا دیا جاتا ہے۔

کلاشنکوف سے قلم تک کا سفر – دانش ارشاد

ایسے ہی نوجوانوں میں ایک اچھی تعداد ایسے نوجوانوں کی تھی جنہوں نے پاکستان میں تعلیمی سلسلہ آگے بڑھاکر صحافت کے شعبہ کو کیرئر کے طور چن لیا اور قلم وکیمرے کو اپنا ہتھیار اور روزگار بنایا ۔ پاکستا نی زیر انتظام کشمیر اوراسلام آباد میں فی الوقت کم و بیش80 کشمیری صحافی ایسے ہیں

کشمیر کیا بنے گا؟

کشمیر کو علاقے میں ایک مکمل غیر جانبدار ریاست ہونا چاہیے جو پڑوسی اور دیگر ملکوں کے معاملات سے مکمل الگ تھلگ رہے لیکن جہاں ممکن ہو تنازعات کے حل میں متحاربین کی سہولت کاری کرے۔کشمیر اور اہلِ کشمیر کی سلامتی کی ضمانت اس کے ان پڑوسیوں پر فرض ہو گی جواس کے محتاج ہیں۔ وہ کشمیر کو ایک پارک تسلیم کریں اور جس طرح پارکس بلاتخصیص ہرخاص وعام کے لیے کھلے ہوتے ہیں

مسئلہ کشمیر میں تیسرا انتخاب: لبنی ہارون

“خودمختار کشمیر” ریاست جموں و کشمیر کے دونوں حصوں میں ایک ابھرتے ہوئے رحجان کی صورت اختیار کر گیا ہے جو مسئلہ کشمیر کے حل میں تعطل سے نمایاں ہوا ہے، اس کو مجموعی طور پر تھرڈ آپشن کہا جاتا ہے.