تو زندہ ہے تو زندگی کی جیت پر یقین رکھ ؛ احسن علی

آئنسٹائن نے بھی بہت سی پیشن گوئیاں کی جن میں سے ایک یہ تھی کہ اگر میرا کشش ثقل کا نظریہ درست ہے تو اس کائنات میں ایسے اجسام بھی موجود ہوں گے جو اتنے وزنی ہونگے کہ روشنی کے زرات بھی اس کے اندر گم ہو جائیں گے۔

کشمیری سماج اور حصول تعلیم کی دوڑ

ایسے حالات میں حاصل کردہ علم اور علم کی دوڑ میں برتری حکمران طبقے کہ مفاد میں تو ہو سکتا ہے لیکن عام عوام اپنی زندگیوں میں اس سے کوئی پائدار فائدہ نہیں اٹھا سکتی.

قومی آزادی کی تحریک اور فکری ابہامات ؛ عذیر شفقت

ریاست جموں کشمیر کی بالعموم اور بالخصوص پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر کی آزادی پسند پارٹیاں
جب ریاست کے مسلم و غیر مسلم عناصر کے اشتراک پر اپنی قومی تحریک کو استوار کرتے ہوئے وطن
کی آزادی کی جدوجہد کرتی ہیں تو مختلف فکری ابہامات کی ترویج کر کے عوام کی وسیع پرتوں کو اس
وطنی آزادی کی تحریک سے دور رکھنے کی سعی کی جاتی ہے۔ گزشتہ ستر سالوں سے پاکستانی
مقبوضہ جموں کشمیر میں بالخصوص اور بالعموم ریاست کے دیگر حصوں میں ازبس یہ فکر منتقل کی
گئی ہے

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول موجودہونے کا دعویٰ کردیا۔

جمعہ کے روز ہفتہ وار نیوز بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان نے کہا ہے کہ بھارت گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کو بنیاد بناتے ہوئے وہاں ترقیاتی کاموں کو یرغمال بنانا چاہتا ہے جسے ترجمان نے ناقابل قبول قرار دیا ۔ انہوں نے مزید کہا ہے بھارت کی مذکرات سے مسلسل انکار کی وجہ سے مسئلہ کشمیر پر کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔

-کاکاٹیوں کا ہیرا اور ریاست جموں کشمیر مدثر شاہ

1751 میں اس کے پوتے نے احمد شاہ ابدالی کو اپنی فوجی مدد کے بدلے میں کوہ نور ہیرا دے دیا، یوں کوہ نور ہیرا افغانوں کی ملکیت میں چلا گیا، احمد شاہ ابدالی کی وفات کے بعد کوہ نور اس کے بیٹے شاہ تیمور اور پھر اس کے بیٹے شاہ شجاع کی ملکیت میں چلا گیا، شاہ شجاع کو اس کے بھائی شاہ محمود نے بغاوت کر کے معزول کر دیا،

مہاراجہ پرتاب سنگھ : ترقی اور اصلاحات کے چالیس سال-مدثر شاہ

پرتاب سنگھ نے کوہالہ سے بارہمولا تک جہلم ویلی کارٹ روڈ کی تعمیر شروع کی جو 1889 میں مکمل ہوئی، بعد ازاں 1897 میں اس سڑک کو سرینگر تک پہنچا دیا گیا، یہ ریاست جموں کشمیر میں تعمیر ہونے والی پہلی سڑک تھی، اس کے بعد جموں اور سرینگر کے درمیان بانیہال کارٹ روڈ تعمیر کی گئی جو 1922 میں آمدورفت کے لئے کھولی گئی، ان سڑکوں کے علاوہ دیگر بیشمار سڑکیں بھی تعمیر کی گئیں جو سرینگر کو گلگت، لیہہ اور دیگر بہت سے علاقوں سے ملاتی تھیں، ان سڑکوں کی تعمیر سے عوام الناس کو بہت فائدہ پہنچا، اس امر کا اندازہ ایسے لگایا جا سکتا ہیکہ پرتاب سنگھ کے دور سے قبل ریاست جموں کشمیر میں بیل گاڑی/ٹانگہ حتٰکہ ہتھ ریڑھی تک موجود نہ تھی

ریاست جموں کشمیر کی عدلیہ اور نظام انصاف |مدثر شاہ

ایک متحرک، موثر اور آزاد عدلیہ ملکی انتظام و انصرام میں ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے، ریاست جموں کشمیر کی تشکیل کے بعد گلاب سنگھ […]

خول اترا تمہارا تو

2014 میں ایک طلباء تنظیم نے روایتی قوم پرست بیانیہ میں موجود خامیوں اور تضادات کی نشاندہی کرتے ہوئے بھارت اور پاکستان کے سرکاری بیانیوں کے چربہ کو رد کرتے ہوئے ایک مقامی جوابی بیانیہ کی تشکیل پر کام شروع کیا جو مکمل طور پر ایک “ایکیڈیمک” طرز پر آگے بڑھ رہا تھا کہ اچانک کچھ لوگ ایک مکمل اور خالص علمی و تاریخی بحث میں خاندانوں اور قبیلوں کی لڑائی لڑنا شروع ہو گئے،

دفعہ 370: سٹیٹ ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ

ریاست جموں و کشمیر میں ایک مشکوک انتخابی عمل سے حکومتیں تشکیل دیں گئیں، جنہوں نے بھارتی آئین کی کئی دفعات و شقوں کو ریاست میں لاگو کرنے کیلئے دہلی کے حکام کا بھر پور ساتھ دیا ۔ دفعہ 370 شق (1) میں بھارتی صدر ریاستی حکومت سے صلاح و مشورے کے بعد آئین ہند کی کسی بھی دفعہ کو ریاست میں لاگو کرنے کا مجاز ہے البتہ ریاستی حکومت قانون سازیہ سے مشورے کے بعد ہی صدر جمہوریہ ہند سے رجوع کر سکتی ہے ۔

سیز فائر لائن پر زندگی کیسے گزرتی ہے

اندھیرا چھٹتے ہی آپ کو پتا چلتا ہے کہ آپ کے ہمسائے میں رہنے والے ستر سالہ بزرگ رات کو باہر نکلے تھے واپس نہیں لوٹے صبح ان کی گولی لگی لاش سامنے والے کھیت سے ملی ہے ۔ انوار صاحب کے بچے صبح اسکول جا رہے تھے راستے میں وین پر گولا لگا ڈرائیور ہلاک ہو چکا ہے دو بچے بھی ساتھ ہی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے باقی کہ ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔