سٹیٹ اسبجیکٹ رولز کا نفاذ نہ ہونے کی وجہ سے جہاںگلگت بلتستان میں عوام روز اول سے مقامی وسائل سے محروم رہے وہیںغیر ریاستی افراد کو جائیدادوں کی الاٹمنٹ بھی کی گئی ۔
تازہ ترین
استحصال کیا ہے؟
ہم روز مرہ زندگی میں استحصال کا لفظ بیسیوں بار سنتے ہیں۔ استحصال کرنے والوں کو برا سمجھتے ہیں اور استحصال زدگان سے ہمدردی کرتے ہیں۔
منجمد سوچيں نسلوں کی دُشمن؛ رضوان اشرف
بڑے دماغ جو تجزيہ کرتے ہيں اُنکی عملًا اہميت صديوں بعد بھی ويسے ہی ہوتی ہے جيسے کہ آج کا تجزيہ ہو۔ اسکی ايک وجہ استحصال کے بنيادی اصولوں کا تبديل نہ ہونا بلکہ محض شکليں بدلنا ہے۔
لبریشن فرنٹ پر بھارتی پابندی
یوں بھی کشمیری بھارت سے ویسے بھی کسی خیر کی توقع کم ہی رکھتے ہیں۔اتنا بڑا ملک ہونے اور خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سمجھنے والا بھارت اس قسم کے ہتھکنڈوں کی مدد سے کشمیریوں کے جائز اور مبنی بر حق مطالبے کونظر انداز نہیں کر سکتا۔بھارت کوایسے غیر سنجیدہ فیصلوں سے اجتناب کرنا چاہیے
تو زندہ ہے تو زندگی کی جیت پر یقین رکھ ؛ احسن علی
آئنسٹائن نے بھی بہت سی پیشن گوئیاں کی جن میں سے ایک یہ تھی کہ اگر میرا کشش ثقل کا نظریہ درست ہے تو اس کائنات میں ایسے اجسام بھی موجود ہوں گے جو اتنے وزنی ہونگے کہ روشنی کے زرات بھی اس کے اندر گم ہو جائیں گے۔
کشمیری سماج اور حصول تعلیم کی دوڑ
ایسے حالات میں حاصل کردہ علم اور علم کی دوڑ میں برتری حکمران طبقے کہ مفاد میں تو ہو سکتا ہے لیکن عام عوام اپنی زندگیوں میں اس سے کوئی پائدار فائدہ نہیں اٹھا سکتی.
قومی آزادی کی تحریک اور فکری ابہامات ؛ عذیر شفقت
ریاست جموں کشمیر کی بالعموم اور بالخصوص پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر کی آزادی پسند پارٹیاں
جب ریاست کے مسلم و غیر مسلم عناصر کے اشتراک پر اپنی قومی تحریک کو استوار کرتے ہوئے وطن
کی آزادی کی جدوجہد کرتی ہیں تو مختلف فکری ابہامات کی ترویج کر کے عوام کی وسیع پرتوں کو اس
وطنی آزادی کی تحریک سے دور رکھنے کی سعی کی جاتی ہے۔ گزشتہ ستر سالوں سے پاکستانی
مقبوضہ جموں کشمیر میں بالخصوص اور بالعموم ریاست کے دیگر حصوں میں ازبس یہ فکر منتقل کی
گئی ہے
ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول موجودہونے کا دعویٰ کردیا۔
جمعہ کے روز ہفتہ وار نیوز بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان نے کہا ہے کہ بھارت گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کو بنیاد بناتے ہوئے وہاں ترقیاتی کاموں کو یرغمال بنانا چاہتا ہے جسے ترجمان نے ناقابل قبول قرار دیا ۔ انہوں نے مزید کہا ہے بھارت کی مذکرات سے مسلسل انکار کی وجہ سے مسئلہ کشمیر پر کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔
-کاکاٹیوں کا ہیرا اور ریاست جموں کشمیر مدثر شاہ
1751 میں اس کے پوتے نے احمد شاہ ابدالی کو اپنی فوجی مدد کے بدلے میں کوہ نور ہیرا دے دیا، یوں کوہ نور ہیرا افغانوں کی ملکیت میں چلا گیا، احمد شاہ ابدالی کی وفات کے بعد کوہ نور اس کے بیٹے شاہ تیمور اور پھر اس کے بیٹے شاہ شجاع کی ملکیت میں چلا گیا، شاہ شجاع کو اس کے بھائی شاہ محمود نے بغاوت کر کے معزول کر دیا،
مہاراجہ پرتاب سنگھ : ترقی اور اصلاحات کے چالیس سال-مدثر شاہ
پرتاب سنگھ نے کوہالہ سے بارہمولا تک جہلم ویلی کارٹ روڈ کی تعمیر شروع کی جو 1889 میں مکمل ہوئی، بعد ازاں 1897 میں اس سڑک کو سرینگر تک پہنچا دیا گیا، یہ ریاست جموں کشمیر میں تعمیر ہونے والی پہلی سڑک تھی، اس کے بعد جموں اور سرینگر کے درمیان بانیہال کارٹ روڈ تعمیر کی گئی جو 1922 میں آمدورفت کے لئے کھولی گئی، ان سڑکوں کے علاوہ دیگر بیشمار سڑکیں بھی تعمیر کی گئیں جو سرینگر کو گلگت، لیہہ اور دیگر بہت سے علاقوں سے ملاتی تھیں، ان سڑکوں کی تعمیر سے عوام الناس کو بہت فائدہ پہنچا، اس امر کا اندازہ ایسے لگایا جا سکتا ہیکہ پرتاب سنگھ کے دور سے قبل ریاست جموں کشمیر میں بیل گاڑی/ٹانگہ حتٰکہ ہتھ ریڑھی تک موجود نہ تھی