181

کُردّوں کا مُعمہ

ترک افواج شام میں دو شمالی صوبوں الحسکہ اور الرقہ SDF کرد تنظیم کے زیر کنٹرول علاقوں کو ذمینی اور فضائی حملوں کا نشانہ بنا رہی ہے جس کے باعث گزشتہ تین دنوں میں ۳۵۰ سے زائدکے قریب لوگ شہید ہو چکے ہیں جبکہ ایک لاکھ لوگ نقل مکانی کر کے گھر بار چھوڑ چکے ہیں ،، یہ علاقہ جات کُرد آبادی پر مشتمل ہیں ۔

یہ کُرد لوگ کون ہیں کیا چاہتے ہیں ؟؟

ذرا مختصر تاریخ پر نظر دوڑاتے ہیں !

کرد نسل اور قوم مختلف ممالک ، ایران ، عراق، شام اور ترکی میں تقسیم ہیں اور وہاں رہ رہے ہیں ۔ کُردوں کی تقریباً تیس بلین کی آبادی ان چار ممالک میں آباد ہے ۔ اپنی نسل ، سماجی شناخت ، لسانیات اور ثقافتی اعتیبار سے ایک دوسرے کے ساتھ تقسیم کے باوجود جڑے ہوئے ہیں ۔ ان میں سے اکثریتی سُنی مسلمان آبادی ہے، اور یہ یہاں کے مقامی لوگ ہیں جو صدیوں سے یہاں آباد ہیں ۔

جنگ عظیم اول کے خاتمے کے ساتھ ہی فاتح مغربین نے کُردوں کی ایک الگ آزاد ریاست کا وعدہ معاہدہِ لوئیذانہ کے تحت کیا، لیکن بد قسمتی سے بے شمار آزاد ریاستوں کے بننے کے باوجود کُردوں کا خواب شرمندہِ تعبیر نہ ھو سکا،جس کے باعث کُردّ، عراق شام ترکی اور ایران میں تقسیم ہو کر رہ گئے۔

۲۰۱۳ میں ISIS داعش کی خطہ(عراق،شام ) میں دہشتگردانہ کاروائیوں اور مختلف علاقوں میں قبضہ کے خلاف کُر د ، مقامی حکومتوں اور امریکہ کے اتحاد کا حصہ بن گئے ، یوں دھشتگردی کے خلاف جنگ میں نہ صرف حصہ دار بنے بلکہ کئی علاقوں میں اکیلے داعش کو شکست دیتے ھوئے آزاد کروایا۔ ۔۔۔۔

اس میں کُردش ڈیمو کریٹک یونین نے صف اول کا کردار ادا کیا ،
لیکن ترکی کے اندر بسنے والے کُرد ایک عرصہ سے نہ صرف محرومیوں کی ذندگی گزار رہی بلکہ ان کے بنیادی حقوق تک کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں ۔ عبداللہ اوکلین نے ۱۹۷۸ میں PKK نامی ایک تنظیم کی بنیاد رکھی ، جس نے ترکی کے اندر بسنے والے ترکوں کے حقوق اور قومی آزادی کی جنگ لڑنےکا فیصلہ کیا؟؟ لیکن ترکی حکومت کی سختی اور اپریشن کے نتیجے میں قومی آزادی جیسے مطالبات سمیت کئی دیگر مطالبات سے پیچھے ہٹنا پڑا۔

بلکل اسی طرح شام میں بسنے والے کردوں نے ڈیمو کریٹک یونین پارٹی PYD کی بنیاد رکھی تھی ۔جس کے خلاف کاروائیوں میں اب تک دو سے اڑھائی لاکھ کے قریب لوگ مارے جا چکے ہیں ،کُردوں کے بسنے والے علاقہ جات میں نہ صرف غیر کُرد۔عربوں کو بسایا جا رہا ہے بلکہ کُرد قوم کی شناخت کی بنا پر ان کے حقوق پامال کیے جا رہے ہیں اور علاقوں میں آبادیاتی تناسب تبدیل کیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ عراق میں بسنے والے کُردوں نے بھی ۱۹۴۶ میں مصطفی بارذان کی قیادت میں کُردستان ڈیموکریٹک پارٹی کی بنیاد رکھی ۔ اور اپنے ابتدائی دنوں میں ہی گوریلا جنگ کے طریقہ کار کو اپناتے ہوئے ، جدوجہد آزادی میں مصروف کار ہوگئے۔ بعد میں کئی علاقوں کا انتظام حاصل کیا یہاں تک کے صدام حسین کا تختہ الٹ کر کچھ حکومتی اختیارات حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوئے۔

کُردوں کی اس جدو جہد اورتاریخی وضاحت کا ایک مقصد تھا ، کہ وہ کیسے ایک لمبے عرصے تک نہ صرف اپنی آذادی کی جنگ میں مصروف رہے ، بلکہ جہاں جہاں کُرد رہ رہے تھے وہیں مقامی حکومتوں اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر داعش کو شکست فاش بھی کیا، جس میں عملی طور پر خو اتین اور مردوں نے حصہ لیتے ہوئے داعش کے دستوں کو مقبوضہ علاقوں سے باہر نکالا اور آزاد کروایا، لیکن اّس کے ساتھ ہی امریکہ نے بھی اِن علاقوں سے اپنی فورسز کو نکال دیا ۔ چونکہ ترکی اور شام میں بسنے والے کُردوں کے مضبوط آپسی روابط ہیں ، بلخصوص شام کے شمالی صوبوں اور ترکی میں رہنے والے کُردوں کے آپسی زمینی رابطے بھی ہیں۔

اقوام متحدہ کے چارٹر میں ارٹیکل(4) 2 کے تحت ایک ریاست کی دوسری ریاست میں مداخلت غیر قانونی ہے ، تاہم بین الاقوامی قوانین کی رو سے اس مداخلت کو کس بھی طرح سے جوازیت نہیں دی جا سکتی ، لیکن ترکی کو یہ بات کسی طور گوارہ نہیں کہ جس قوم پر انہوں نے ایک عرصے سے قبضہ کر رکھا ہے اور حقوق غصب کر رکھے ہیں وہ کیونکر اپنی آزادی اور خود مختاری کی آواز بلند کریں۔

مختلف ممالک میں بسنے والے یہ منقسم کُرد ایک جسم ایک جان کی حثیت سے اپنی آزادی کی جنگ میں صبح شام مصروف ہیں ، ۔۔۔

دنیا بھر میں جہاں بھی مظلوم اقوام اپنے حقوق اور آذادی کی جد و جہد مصروف ہیں ، وہ تمام آزادی پسند اور جمہوری قوتوں کی حمایت کے متقاضی ہیں ۔ ، ہم ریاست جموں و کشمیر کے عوام بھی ایسی ہی تقسیم کا شکار ہیں اور تقسیم کے درد کو خوب سمجھتے ہیں۔۔۔ کُردوں کے خلاف عسکری کاروائی کرنے والے نہ صرف قابض اور غاصب ہیں بلکہ ان کا یہ عمل قابل مذمت بھی ہے، ۔۔ ہم کُردوں کی قومی آذادی کی نہ صرف حمایت کرتے ہیں بلکہ اس کو تاریخی طور پر درست اور اصولی سمجھتے ہیں ۔۔۔

کل تک ترکی نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہو کر فلسطین کے علاوہ پوری دنیا میں مسلمانوں کے حقوق کی پامالی کے خلاف احتجاج کیا اور لمبا چوڑا بھا شن بھی دیا ، بلکل اسی طرح پاکستان نے کشمیریوں کے مسئلہ کو مسلمانوں کے حقوق کا مسئلہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی، لیکن اپنے علاقائی اور اسٹرٹیجک مفادات کے پیش ِ نظر آج ترکی کردوں پر فوج کشی کر چکا ہے اور پاکستان اُس کے اِس عمل کی مکمل حمایت کر رہا ہے ، مسلم امہ کا نعرہ اور طیب اردگان کا مسلمانوں کا ہیرو بننے کا جعلی ناٹک بری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔۔۔ مسلم امہ کے اور دنیا کے اس حالیہ معاملے میں کردار پر سوالیہ نشان ہے!!! اُن ہزاروں کردوں کی ہلاکتوں ، جائیداد اور ان کی زندگی کی تباہی کا ذمہ دار کون ہے ؟؟؟