سرینگر: بھارتی فوج نے سری نگر میں نقل و حرکت پر دوبارہ پابندی عائدکردی، جھڑپوں میں 24 افراد زخمی ہوگئے بھارتی حکام نے پولیس اور […]
تازہ ترین
بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں کرفیو کے دروان اب تک چار ہزار سے زائد کشمیری گرفتار
معروف عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے حکومتی ذرائع کے حوالے بتایا ہے کہ بھارتی فورسز نے پانچ اگست سے اب تک کرفیو کے دوران چار ہزار سے زیادہ کشمیریوں کو گرفتار کیا ہے۔
بھارتی مقبوضہ جمون کشمیر میں کیا ہو رہا ہے، آنکھوں دیکھا حال پڑھیے
بھارتی سول سوسائٹی کے وفد نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے ”سینکڑوں چھوٹے بچوں کو ان کے گھروں سے آدھی رات کو اٹھالیا گیا۔ اس عمل کا واحد مقصد لوگوں میں خوف وہراس پیدا کرنا ہے۔ بعض لڑکیوں اور خواتین نے شکایت کی کہ پولیس کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے ان کے ساتھ دست دراز ی بھی کی۔”
مسئلہ کشمیر اور اقوام متحدہ کا کردار
جنوری 1951ء میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کو ممکن بنانے کے لیے دولت مشترکہ کے وزرائے اعظم نے ہرممکن سفارتی کوشش کی کہ وہ دونوں ملک فوجوں کو غیر مسلح کرنے اور انخلا پر رضامند ہو جائیں۔ اس ضمن میں انہوں نے دونوں ملکوں کے سامنے درج ذیل تجاویز پیش کیں کہ وہ ان میں سے کسی ایک کو تسلیم کر لیں۔
ریاست جموں کشمیر کی موجودہ حیثیت تبدیل نہیں کی جا سکتی ہے۔ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ
ترجمان نے بتایا کہ سیکریٹری جنرل نے 1972ء کے سمجھوتے کا حوالہ دیا ،جس میں بھارت اور پاکستان کے درمیان باہمی تعلقات سے متعلق امور کا ذکر ہے، جسے شملہ معاہدے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں کلاؤڈ برسٹ سے جہلم ویلی میں پانچ افراد جاں بحق
حادثہ میں جان بحق ہوئے گہل جبڑا کے مضافاتی علاقے اورنی بن ڈبر ڈھوک میں کلاوڈ برسٹ ہوا علاقے میں کیمونیکیشن نظام مکمل مفلوج ہو گیا
آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے بعد اب مستقبل کیا ہو گا؟
ریاست جموں کشمیر کا ریاستی تشخص ختم کرنے کا بھارتی اقدام اگر سپریم کورٹ میں چیلنج ہوتا ہے تو یقینا بھارتی حکومت یہ مقدمہ ہار جائے گی اور بھارتی زیرانتظام جموں کشمیر اپنی جولائی 2019 کی پوزیشن پر واپس آ جائے گی
کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر جذباتی فضاء …مگر!!
عبوری آئین 1974بلکہ 13ویں ترمیم کے بعد آزادکشمیر کے پاس جو اختیارات ہیں انہیں دیکھا جا سکتا ہے؟کہ آزادکشمیر کہاں کھڑا ہے۔۔۔۔دلچسپ بات یہ 1954میں جب آرٹیکل 370سامنے آیا تو مخالفت کی گئی آج ختم ہوا پھر بھی مخالفت۔اس پار کی آئین ساز اسمبلی کو تو 5اگست 2019کو قانون ساز اسمبلی میں بدلا گیا ہمارے ہاں تو پہلے دن سے قانون سازاسمبلی ہے۔
عالمی قوتیں تقسیم کا فیصلہ کر چکی ہیں
سی پیک پر دستخط کے بعد عالمی منظر نامہ تبدیل ہونا شروع ہوا ، گلگت بلتستان میں لوگوں کو سزائیں شروع ہوئی ، پی او جے کے کے اندر بھی سختی بڑھی ، جی بی میں سٹیٹ سبجیکٹ پہلے سے دفن ہوچکا تھا اب انڈین زیر انتظام حصہ میں 35 a اور 370 کے خاتمے پر بات شروع ہونے لگی۔ وادی اور گلگت میں جبر بڑھ رہا ہے گرفتاریاں ہورہی ہیں
برصغیر میں انتہا پسندی کا رجحان اور تاریخ
اس قوم کو لگتا ہے جو کشمیر میں دہشتگردی ہوتی ہے وہ جہاد ہے اور اس سے کشمیر آزاد ہو جائے گا ۔ یہان پر طالبان دہشت گرد ہوتے ہیں کشمیر میں جہادی اور اسلام کی سر بلندی کے لیے قربانی اور شہادت کا نام دیا جاتا ہے۔ ابھی کل سے شروع ہونے والی گولہ باری مجال کہ کوئی ٹی وی پر بات کرے نیلم میں کل سے ہونے والی گولہ باری میں تین کشمیری شہید ہوئے درجنوں زخمی ہوئے اس کے علاہ بہت سارے مکان بھی جل گئے۔