اب رائے شماری نہیں خود مختاری

ریاست جموں کشمیر کی قومی خود مختاری سے قبل ریاست کے اندر کسی قسم کی رائے شماری اول تو ناممکن ہے اور اگر ممکن بنا بھی لی جاتی ہے تو دو غاصب قوتوں کے ہوتے ہوئے صحیح نتائج حاصل کرنا ناممکن ہے

نہتے لڑکوں سے خوف زدہ حکمران

بھارت اپنے زیر قبضہ علاقوں میں جو ظلم کر رہا ہے اس کی وجہ آزادی کا مطالبہ ہے جس کی سزا بھارت کے نزدیک گرفتاریاں اور تشدد ہے ۔۔۔آپ کے نزدیک بھی اگر آزادی کا مطالبہ جرم ہے تو پھر فرق آپ خود کریں ہم کہیں گے تو گستاخی ہو گی۔

آزادی مارچ میں گئے ایک غیر سیاسی نوجوان کے تاثرات

آزادی مارچ کے دوران تمام ساتھی جو ایکدوسرے کو جانتے تک نہیں تھے لیکن ایکدوسرے کا اتنا خیال رکھ رہے تھے کہ جیسے یہ ایک ہی گھر کے لوگ ہوں۔ انکا ڈسپلن اور انکی انسانیت مجھے پسند آئی۔ کچھ شرپسندوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا تو انہوں نے سب کو کہا کہ یہ ہمارے ہی اپنے لوگ ہیں, یہ آرڈر کے غلام ہیں, ان پر پتھر مت برساؤ۔ اگر پتھر مارنے ہیں تو IG کو مارو جس نے اسلام آباد میں بیٹھ کر انکو حکم صادر کیا ہے۔

پاکستانی زیر انتظام کشمیر ، نوجوان نے سیز فائر لائن پار کر کے آزاد کشمیر کا جھنڈا لہرا دیا، گولی سے زخمی

تفصیلات کے مطابق تاجران اور سول سوسائیٹی کی کال پر کوٹلی کے علاقے چڑھوئی سے سیز فائر لائن کی طرف احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں سینکڑوں افراد شریک ہوئے۔

لندن: کشمیری مظاہرین نے فاروق حیدر، چوہدری یاسین اور بیرسٹر سلطان کو خطاب سے روک دیا

لندن میں کشمیری تنظیموں اور مقامی افراد کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے لیے سماجی کارکنوں اور حامیوں کو لندن میں جمع ہونے کی اپیل کی گئی تھی۔

لندن: مشتعل مظاہرین نے بیرسٹر سلطان چوہدری کے کپڑے پھاڑ دیے

بیرسٹر سلطان کی مظاہرے میں شرکت کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہیں لیکن انہیں مظاہر ے کے دوران ناخوشگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔

منٹو اور کرشن چندر کا کشمیر

آج کشمیر کے بنیادی حوالے دو ہیں: ایک اس کا فطری حُسن اور دوسرے اس کی سیاسی صورتِ حال۔ کشمیر کے ان دو عاشقوں میں سے کرشن چندر کشمیر کے فطری حسن کے متوالے ہیں تو سعادت حسن منٹو کے کشمیر کے حوالے سے دو مشہور افسانے اس کے سیاسی پس منظر کے بارے میں ہیں۔

کیا پاکستان بھی کشمیریوں کی ہمدردیاں کھو رہا ہے؟

ٓآپ کوہالہ سے پار ہوں تو ہر چہرے پر تنوع اور سنجیدگی ہے۔ جونہی لائن آف کنٹرول کی جانب بڑھتے جائیں گے یہ سنجیدگی پریشانی میں تبدیلی ہوتی جائے گی ۔ میر پور سے لے کر تاﺅ بٹ تک لوگ ایک ہی سول کر رہے ہیں ۔کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے جا رہا ہے ؟ مگر ظاہر ہے ان سوالات کے جواب فی الحال کسی کے پاس بھی نہیں ہیں۔

بھارت کے لیے فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ ابھی نہیں کیا ہے، پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ کا کہنا تھاکہ بھارت کے لیے ابھی فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ نہیں ہوا، اس حوالے سے سوچ بچار کے بعد فیصلہ ہوگا اور اس پر وزیراعظم تمام صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کریں گے۔

پاکستانی زیر انتظام جمون کشمیر “کشمیر چھوڑ دو” کے نعروں سے گونج اٹھا

پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ترقی پسند اور قوم پرست تنظیموں پر مشتمل جموں کشمیر پیپلز نیشنل الائنس کے زیر اہتمام ”جموں کشمیر چھوڑ دو تحریک“ کا آغاز کر دیا گیا ہے،