عمران خان کی جنرل اسمبلی میں تقریر، مسئلہ کشمیر پر کوئی ٹھوس لائحہ عمل سامنے نہیں آیا، پی این اے

پی این کے رہنماوں نے واضح کیا کہ ہم کسی بھی طور ریاست کی تقسیم کو کبھی بھی قبول نہیں کریں گے اور مادر وطن کی وحدت کیلئے ہر قربانی دیتے ہوئے بھرپور مزاحمت کریں گے ۔

فتح تو قریب ہے..مگر آپ کہاں کھڑے ہیں؟

آئیے اہلِ کشمیر کے حق خودارادیت کے لیے اکیس اکتوبر کے آزادی مارچ میں ہمارا ساتھ دیجیے. اپنی آنے والی نسلوں کو محفوظ بنوائیے. آپ الحاق پاکستان چاہتے ہوں یا الحاق ہندوستان خود مختاری چاہتے ہوں یا الحاق چین..اپنی مرضی کی مستند شناخت حاصل کرنے کے لیے ہمارے ہاتھ مضبوط کیجیے.

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے جلسے میں اندر کتنے لوگ تھے اور مخالفت میں باہر کتنے

پروٹیسٹرز پندرہ سے بیس ہزار کر درمیان آئے اور مودی کے لیے استقبال کرنے کے لیے بھی اتنے ہی لوگ تھے. جبکہ مودی کے جلسے کا بجٹ ملینز میں تھا اور پاکستانیوں کے ساتھ ٹیکساس کے سکھوں نے چندہ کر کے نوے ہزار ڈالر جمع کیے تھے.

کہے بغیر- اعجاز نعمانی کے شعری مجموعے پر عبد البصیر تاجور کا ایک دلچسپ تبصرہ

شعروں میں ایک نئے نا شنیدہ بہ نعمانی برآمد ہوۓ. اس سے قبل ہم نعمانی صاحب کو پروفیسری, مہمان نوازی, بذلہ سنجی, بالوں کی سفیدی چھپانے کے لیے روزانہ شیو کی عادت, ٹھیٹ دیہاتی زبان بولنے میں بوڑھیوں کے لہجوں کی ایسی دلنواز نقل اتارنا کہ پوپلے منہ والی بوڑھیاں بھی شرما جائیں.. مگر مزے لیں وغیرہ وغیرہ کی وجہ سے جانتے تھے.

اگر آپ یہ کام کرتے ہیں تو آپ کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے

– اگر آپ حیران ہیں کہ اس پوسٹ کو زیر بحث لانے کی کیا ضرورت ہے تو آپ بد دیانت ہیں، آپ اپنے فائدے کی غرض سے بڑی آسانی سے معاشرے میں خرابیاں پیدا کریں گے۔

مزدوری از سعادت حسن منٹو

اُونچے مکان کی کھڑکی میں سے مل مل کا تھان پھڑپھڑاتا ہوا باہر نکلا، شعلے کی زبان نے ہولے ہولے اسے چاٹا۔ سڑک تک پہنچا تو راکھ کا ڈھیر تھا۔ “پوں پوں، پوں پوں” موٹر کے ہارن کی آواز کے ساتھ دو عورتوں کی چیخیں بھی تھیں۔

اب رائے شماری نہیں خود مختاری

ریاست جموں کشمیر کی قومی خود مختاری سے قبل ریاست کے اندر کسی قسم کی رائے شماری اول تو ناممکن ہے اور اگر ممکن بنا بھی لی جاتی ہے تو دو غاصب قوتوں کے ہوتے ہوئے صحیح نتائج حاصل کرنا ناممکن ہے

نہتے لڑکوں سے خوف زدہ حکمران

بھارت اپنے زیر قبضہ علاقوں میں جو ظلم کر رہا ہے اس کی وجہ آزادی کا مطالبہ ہے جس کی سزا بھارت کے نزدیک گرفتاریاں اور تشدد ہے ۔۔۔آپ کے نزدیک بھی اگر آزادی کا مطالبہ جرم ہے تو پھر فرق آپ خود کریں ہم کہیں گے تو گستاخی ہو گی۔

آزادی مارچ میں گئے ایک غیر سیاسی نوجوان کے تاثرات

آزادی مارچ کے دوران تمام ساتھی جو ایکدوسرے کو جانتے تک نہیں تھے لیکن ایکدوسرے کا اتنا خیال رکھ رہے تھے کہ جیسے یہ ایک ہی گھر کے لوگ ہوں۔ انکا ڈسپلن اور انکی انسانیت مجھے پسند آئی۔ کچھ شرپسندوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا تو انہوں نے سب کو کہا کہ یہ ہمارے ہی اپنے لوگ ہیں, یہ آرڈر کے غلام ہیں, ان پر پتھر مت برساؤ۔ اگر پتھر مارنے ہیں تو IG کو مارو جس نے اسلام آباد میں بیٹھ کر انکو حکم صادر کیا ہے۔

پاکستانی زیر انتظام کشمیر ، نوجوان نے سیز فائر لائن پار کر کے آزاد کشمیر کا جھنڈا لہرا دیا، گولی سے زخمی

تفصیلات کے مطابق تاجران اور سول سوسائیٹی کی کال پر کوٹلی کے علاقے چڑھوئی سے سیز فائر لائن کی طرف احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں سینکڑوں افراد شریک ہوئے۔