لبریشن فرنٹ دھرنا: انتظامیہ نے ختم کرنے کی ڈیڈ لائن دے دی

دھرنا مظاہرین کی سیکورٹی پرمعمور پولیس فورس کو ہائی الرٹ سگنل جاری کردیا ! دھرنے میں شریک خواتین کو تحویل میں لینے کے لیے آزادکشمیر لیڈی پولیس کو بھی سول انتظامیہ نے ہاٸیر کر لیا، ذرائع

خود مختاری سے رائے شماری: آفتاب احمد

اُس جوان کا واویلا تھا جو عالمی سامراج کا ضمیر جھنجھوڑنے سے زیادہ اپنوں کی بے حسی کا ماتم کر رہا تھا۔ اُسے شکوہ تھا کہ آزادی کے لیئے دو چار دن کا نہیں، دو چار سالوں جتنا لانگ مارچ کرنے کا عزم ہونا چائیے۔ اُسے اپنوں سے گِلہ تھا کہ ہماری پیاس بیچی گئی۔ ہمارا فرات بیچا گیا۔ اب ہمارے لہو کو بیچنے کا پلان بن رہا ہے۔ الغرض اُس کے ایک ایک لفظ سے اخلاص اور وطنیت کی خوشبو آ رہی تھی۔

لبریشن فرنٹ کی کال پر ہزاروں کشمیری چکوٹھی سیز فائر لائن پر کل پہنچیں گے

دوسری جانب لبریشن فرنٹ کے آزادی کشمیر مارچ کو چکوٹھی سے سیزفائر لائن توڑ کر مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے کی کوشش ناکام بنانے کے لیے پولیس نے چناری جسکول پل پر بھاری کنٹینر لگا کر شاہراہ سری نگر بند کر دی ہے ۔ اور گاڑیوں کو روکنے کیلئے کنٹینر اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کرکے شرکاء مارچ سے نمٹنے کی تیاری کر لی گئی ہے۔

پی این اے کیا ہے اور پی این اے کے اغراض و مقاصد کیا ہیں

جموں کشمیر پیپلز نینشل الائس نے 21 اکتوبر کو مظفرآباد کی جانب احتجاجی مارچ کی کال دے رکھی ہے جس کے بعد مظفرآباد پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ہی مطالبات کی تسلیم کیے جانے تک دھرنا دیا جائے گا۔

عمران خان کی جنرل اسمبلی میں تقریر، مسئلہ کشمیر پر کوئی ٹھوس لائحہ عمل سامنے نہیں آیا، پی این اے

پی این کے رہنماوں نے واضح کیا کہ ہم کسی بھی طور ریاست کی تقسیم کو کبھی بھی قبول نہیں کریں گے اور مادر وطن کی وحدت کیلئے ہر قربانی دیتے ہوئے بھرپور مزاحمت کریں گے ۔

فتح تو قریب ہے..مگر آپ کہاں کھڑے ہیں؟

آئیے اہلِ کشمیر کے حق خودارادیت کے لیے اکیس اکتوبر کے آزادی مارچ میں ہمارا ساتھ دیجیے. اپنی آنے والی نسلوں کو محفوظ بنوائیے. آپ الحاق پاکستان چاہتے ہوں یا الحاق ہندوستان خود مختاری چاہتے ہوں یا الحاق چین..اپنی مرضی کی مستند شناخت حاصل کرنے کے لیے ہمارے ہاتھ مضبوط کیجیے.

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے جلسے میں اندر کتنے لوگ تھے اور مخالفت میں باہر کتنے

پروٹیسٹرز پندرہ سے بیس ہزار کر درمیان آئے اور مودی کے لیے استقبال کرنے کے لیے بھی اتنے ہی لوگ تھے. جبکہ مودی کے جلسے کا بجٹ ملینز میں تھا اور پاکستانیوں کے ساتھ ٹیکساس کے سکھوں نے چندہ کر کے نوے ہزار ڈالر جمع کیے تھے.

کہے بغیر- اعجاز نعمانی کے شعری مجموعے پر عبد البصیر تاجور کا ایک دلچسپ تبصرہ

شعروں میں ایک نئے نا شنیدہ بہ نعمانی برآمد ہوۓ. اس سے قبل ہم نعمانی صاحب کو پروفیسری, مہمان نوازی, بذلہ سنجی, بالوں کی سفیدی چھپانے کے لیے روزانہ شیو کی عادت, ٹھیٹ دیہاتی زبان بولنے میں بوڑھیوں کے لہجوں کی ایسی دلنواز نقل اتارنا کہ پوپلے منہ والی بوڑھیاں بھی شرما جائیں.. مگر مزے لیں وغیرہ وغیرہ کی وجہ سے جانتے تھے.

اگر آپ یہ کام کرتے ہیں تو آپ کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے

– اگر آپ حیران ہیں کہ اس پوسٹ کو زیر بحث لانے کی کیا ضرورت ہے تو آپ بد دیانت ہیں، آپ اپنے فائدے کی غرض سے بڑی آسانی سے معاشرے میں خرابیاں پیدا کریں گے۔

مزدوری از سعادت حسن منٹو

اُونچے مکان کی کھڑکی میں سے مل مل کا تھان پھڑپھڑاتا ہوا باہر نکلا، شعلے کی زبان نے ہولے ہولے اسے چاٹا۔ سڑک تک پہنچا تو راکھ کا ڈھیر تھا۔ “پوں پوں، پوں پوں” موٹر کے ہارن کی آواز کے ساتھ دو عورتوں کی چیخیں بھی تھیں۔