میرے دائیں طرف والے بیڈ پر ان کے جسم نے جھرجھری لی. میں نے جس شخص کو ڈاکٹر سمجھ کر اس قریب مرگ شخص کو دیکھنے کا کہا تو پتا چلا وہ بھی مظاہرین میں سے ہے اور نیم زخمی ہونے کی وجہ سے لایا گیا ہے. ڈاکٹر اور نرسز ڈی سی یا پولیس کی اجازت کے بارے میں بحث کرتے رہے. اس قریب مرگ شخص کے وارث کے لیے آوازیں دیتے رہے. اور دو منٹ بعد بلا اجازت ہی جب کیس دیکھنے پر اتفاق ہوا
تازہ ترین
ریاست جموں کشمیر پر قبائلی حملہ اور پاکستانی لشکر کشی
16 یا 17اکتوبر کو پاکستان فوج کا ایک کرنل شاہ سرےنگر میں الحاق پاکستان کی دستاویز اٹھائے مہاراجہ سے ملنا چاہتا تھا مہاراجہ کے وزیر اعظم نے اسے یہ کہا کہ پاکستان حکومت خوراک کی ترسیل شروع کرے تو وہ اس بارے میں سوچ سکتے ہیں ۔ کرنل شاہ کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ اس بات پر ڈٹا رہا کہ کشمیر جلد سے جلد پاکستان سے الحاق کرے
لبریشن فرنٹ کا دھرنا ختم ہو گیا ، اثرات دیر پا ہوں گے
ڈاکٹر توقیر گیلانی اپنی پوری فیملی کے ساتھ مارچ اور دھرنے میں موجود رہے۔ ان کے علاوہ بھی کئی لوگ اپنے خاندان بھر کو لے کر دھرنے میں پہنچے ہوئے تھے جہاں رات کو سونے کے لیے ننگی دریاں، تکیوں کے جگہ برتن اور چھت کی جگہ کھلا آسمان یا ٹینٹ تھا جس میں دونوں جانب سے جہلم کی یخ بستہ ہوائیں رات کے پچھلے پہر داخل ہوتی تھی۔ دھرنے میں موجود شرکاءہردم پرجوش تھے
میر پور: چیئر مین پی این اے کی حکومتی وفد سے ملاقات، کشمیر چھوڑ دو تحریک کے حوالے سے مذاکرات
حکومتی وفد نے یقین دلایا کہ پی این اے کے پرامن و جمہوری احتجاجی مارچ کو کہیں بھی نہیں روکا جائے گا کیوں کہ ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔ اس لیے آزادی پسند، جمہوریت پسند، پرامن اتحاد میں شامل پارٹیوں کو اپنی سوچ و فکر کے مطابق اس نوعیت کی سرگرمیاں کرنے کا حق حاصل ہے۔
پی این اے نے21 اکتوبر آزادی مارچ کو حتمی شکل دے دی
اجلاس میںفیصلہ کیا گیا ہے کہ بائیس اکتوبر کو یونیورسٹی گراؤنڈ سے اسمبلی سیکرٹریٹ کی طرف پرامن مارچ کیا جائیگا، اور اسمبلی سیکرٹریٹ کے سامنے احتجاجی جلسہ کرتے ہوئے اپنے پروگرام و مطالبات رکھے جائیں گے جبکہ اسی موقع پرآئندہ کی حکمت عملی کا بھی اعلان کیا جائیگا.
سوچ زار ایک تاثر – مریم مجید ڈار کے افسانوی مجموعے پر اظہر مشتاق کا تبصرہ
حرافہ کا عنوان دیکھ کر ایسا لگتا ہےکہ یہ اس سماج کے ناپسندیدہ اور ناقابل قبول کردار کی کہانی ہے مگر مکمل افسانے کے مطالعے کے بعد غربت اور فاقہ زدہ گھر کی ایک ایسی کہانی ملتی ہے جس کے کردار سماج میں موجود ہیں مگر ان پر بات کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ حرافہ کا اختتام ڈرامائی اور سبق آموز ہے
4 اکتوبر ۔۔۔ نظریاتی ابہام- شفقت راجہ
تیسری سیاسی قوت مہاراجہ ہری سنگھ تھا جو ریاست کی اس پیچیدہ صورت حال کے پیش نظر ریاست کے بھارت و پاکستان میں سے کسی ایک کیساتھ الحاق کی بجائے ریاستی خودمختاری کا خواہشمند تھا لیکن برصغیر کی مجموعی اور ریاست کی اندرونی طوفانی سیاست میں شدید
دباو کا شکار تھا۔
72 سال اور ستر دن۔۔۔۔۔۔۔!!!!
اقوامی متحدہ کے ذیلی ادارے میں کی گئی تقریرکے بعد بھی مودی تو کجا بھارتی دفترِ خارجہ کے نمائندگان کو بھی پچھاڑنے میں ناکام نظر آئے (نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا)۔ اوائل روز میں پاکستانی دفتر خارجہ سے یہ دعوٰی بھی سننے کو ملا کہ اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے 50 سے زائد ممالک کی حمایت بھی حاصل کر لی گئی ہے، یار لوگوں کی خوشی کی انتہا نہ تھی کہ ایک دن یہ عقدہ کھلا کہ مذکورہ کونسل کے ارکان کی تعداد ہی 47 ہے تو ماتھا ٹھنکا کہ الٰہی ماجرا کیا ہے
کُردّوں کا مُعمہ
۲۰۱۳ میں ISIS داعش کی خطہ(عراق،شام ) میں دہشتگردانہ کاروائیوں اور مختلف علاقوں میں قبضہ کے خلاف کُر د ، مقامی حکومتوں اور امریکہ کے اتحاد کا حصہ بن گئے ، یوں دھشتگردی کے خلاف جنگ میں نہ صرف حصہ دار بنے بلکہ کئی علاقوں میں اکیلے داعش کو شکست دیتے ھوئے آزاد کروایا۔ ۔۔۔۔
سیز فائر لائن پر بھارتی جارحیت، ایک کشمیری ہلاک تین زخمی
مقامی افراد نے اس دوران بتایا کہ نیلم ویلی مین تین مختلف مقامات، کنڈالشاہی، اٹھمقام اور کیرن میں فضا میں بھارتی ڈرون بھی دیکھے گئے ، یہ تیس منٹ سے ایک گھنٹہ تک پاکستانی زیر انتظام ریاست جموں کشمیر کی حدود میں رہے۔