کرفیو کے 85 دن اور 5 تقاریر – رفعت وانی

خان صاحب اکتیس اکتوبر کو باقائدہ جموں کشمیر کی تقسیم عمل میں لائی جائے گی ۔ گجرات قتل عام کا ماسٹر مائنڈ گورنر کا حلف اُٹھا لے گا اُس کے بعد وادی والے بھی لڑنے کی پوزیشن میں نہیں رہیں گے کیونکہ انڈیا کی ایک ارب پنتیس کروڑ عوام بھی انڈین آرمی کے ساتھ شامل ہی سمجھیں۔

نومنتخب کینڈین نائب وزیر اعظم جگمیت سنگھ کشمیریوں کے حق میں بول پڑے

“میں آج کی شام کشمیر کے لوگوں کے بتانا چاہتا ہوں کہ میں جو ناانصافی لوگوں کے ساتھ ہو رہی ہے اس کے خلاف آپ کے ساتھ کھڑا ہوں، میں ناانصافی کے خلاف کھڑا ہون اور میں انڈیا جو بھی کشمیر میں کر رہا ہے اس کی مذمت کرتا ہوں”

کیا جموں کشمیر پر قبائلی حملہ درست تھا؟

اکتوبر 1947ء میں ریاست جموں و کشمیر کے اندر مہاراجہ ہری سنگھ کی شخصی حکومت کے خلاف کئی ریاستی گروہوں کے احتجاج جاری و ساری تھے۔ جن کا مطالبہ تھا کہ ملک میں شخصی حکمرانی کی بجائے جمہوری نظام حکومت ہونا چاہیے۔۔۔ ریاست جموں و کشمیر میں مہاراجا حکومت کے خلاف چلنے والی تحریک اس ریاست کا ایک اندرونی مسئلہ تھا۔

22 اور 27 اکتوبر کے درمیاں اٹکی ریاستی تاریخ

ستائیں اکتوبر 1947 کو بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے پاکستانی وزیر اعظم لیاقت علی خان کو بھیجے گئے ایک ٹیلی گرام میں لکھا
“میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس ہنگامی صورتحال میں کشمیری امداد کا سوال بھارت کے ریاست پر اثر انداز کرنے کے کسی بھی طریقے سے ترتیب نہیں کیا گیا ہے. ہمارے نقطہ نظر جس نے ہم بار بار عوام کو بتایا ہے یہ ہے کہ کسی بھی متضاد علاقے یا ریاست میں رسائی کا سوال پر وہاں کے لوگوں کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق فیصلہ کیا جائے اور ہم اس نظریے پر عمل کریں “

جنسی خواہشات پوری کرنے کے لیے خواتین کو فوج میں بھرتی کیا جاتا ہے، مستعفی ڈپٹی کمانڈنٹ نے بھارتی فوج کا پول کھول دیا

بھارت کے ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کرونا جیت کور نے بتایا کہ بھارت کی سرحدی فورس انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) میں ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کی گئی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے آئی ٹی بی پی میں ڈاکٹر کے عہدے سے استعفی دیا

21توپوں کی سلامی تو بنتی ہے

محترم فاروق حیدر خان کی طرف سے نامزد بدعنوان آفیسران تین سال سے نہ صرف بھرپور راحت میں ہیں بلکہ ترقیابی سے بھی فیض یاب ہوئے۔سینکڑوں نہ سہی درجنوں مثالوں میں ایک مثال ڈپٹی وزیر اعظم راجہ امجد پرویز کی ہے جو ان ہی تین سال میں نامزد بدعنوان آفیسران کی فہرست میں سے نکال کر پرنسپل سیکرٹری کے عہدے پر فائز کیے گئے۔

کشمیری نزاد برطانوی صحافی تنویر احمد احتجاج پر مظفرآباد سے گرفتار

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق تنویر احمد کو لال چوک مظفرآباد سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

کیا ہری سنگھ بزدل تھا؟

قبائلیوں کی حملے کے وقت ہری سنگھ کی کل دس ہزار کی فوج تھی جس کے پاس وسائل کی کمی تھی جبکہ قبائلیوں کی پست پناہی پاکستان کی فوج، سابق آرمی سروسز، کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ہندوستان اور انگریز بھی شامل تھے ان کی یہ دلیل سرحدی گاندھی کے حوالے سے رد بھی نہیں کی جا سکتی ہے کیونکہ باچا خان گاندھی کے قریبی دوست تھے ہو سکتا ہے ریاست جموں کشمیر ہتھیانے کے چکر میں انہوں نے کوئی چال چلی ہو ۔

سیز فائر لائن فائرنگ: دونوں اطراف میں چار ہلاک ، سات زخمی؛ املاک کو شدید نقصان

مقامی صحافیوں کی رپورٹس کے مطابق شاہراہ نیلم پر بھارتی گولہ باری کی زد میں‌آکر عظمت نامی ایک ڈرائیور ہلاک ہو گیا، جبکہ اٹھمقام کے گاؤں لالہ میں‌ گولہ باری کی زد میں‌آکر گل زرین ولد علم دین اور اسکا دس سالہ بیٹا سلطان ولد گل زرین ہلاک ہو گئے.

ہم بندوق تو نہیں اُٹھا سکتے

چند مناظر جو کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کیے۔ایک ویڈیو کلپ میں پولیس لوگوں کو ایک ہوٹل کی دوسری منزل سے اتار کر بے رحمانہ تشدد کرتی ہے،ایک اور ویڈیو کلپ ایک شخص جو پرامن اور خالی ہاتھ کھڑا تھا اس کے سر میں اچانک ایک پولیس والے نے زور دار ڈنڈامارا جس کے بعد مذکورہ شخص ذبح کیے ہوئے مرغ کی طرح چند سیکنڈ کیلئے ہاتھ پاؤں مارتا ہے اور پھر ساکت ہو جاتا ہے