مسئلہ کشمیر پر امریکہ نے اپنی پوزیش تبدیل نہیں کی: امریکی معاون نائب وزیرخارجہ

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں گزشتہ دو ماہ کے دوران کئی ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ سینکڑوں لوگوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت بغیر کسی الزام کے نظربند کیا گیا ہے۔

چیئرمین پی این اے ذولفقار راجہ کی 22 اکتوبر پولیس تشدد پر پریس کانفرنس

چیئرمین نے کہا کہ پی این اے کے بنیادی اہداف پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ ھم مرحلہ وار اپنی منزل تک پہنچنے کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو سرکاری بنگلے خالی کرنے کا نوٹس

بھارتی حکومت نے عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو یکم نومبر تک اپنے سرکاری بنگلے خالی کرنے کا نوٹس دیا ہے۔ اب تک وہ جموں وکشمیر اسمبلی اراکین پنشن ایکٹ 1984 کی وجہ سے اس پراپرٹی میں رہ سکتے تھے ۔

سیز فائر لائن پر کشیدگی کی وجہ سے ہزاروں خاندان ہجرت کر رہے ہیں:سابق وزیر تعلیم میاں وحید

انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ سیز فائر لائن کے خلاف ورزیوں اور دونوں اطراف سے گولا باری کو فی الفور بند کیا جائے ۔

بھمبر: سیز فائر لائن پر کشیدگی، مزید تین زخمی

سیز فائر لائن پر حالیہ دنوں میں کشیدگی کے باعث دو درجن سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں املاک کا نقصان اس کے علاوہ ہے

نومنتخب کینڈین نائب وزیر اعظم جگمیت سنگھ کشمیریوں کے حق میں بول پڑے

“میں آج کی شام کشمیر کے لوگوں کے بتانا چاہتا ہوں کہ میں جو ناانصافی لوگوں کے ساتھ ہو رہی ہے اس کے خلاف آپ کے ساتھ کھڑا ہوں، میں ناانصافی کے خلاف کھڑا ہون اور میں انڈیا جو بھی کشمیر میں کر رہا ہے اس کی مذمت کرتا ہوں”

22 اور 27 اکتوبر کے درمیاں اٹکی ریاستی تاریخ

ستائیں اکتوبر 1947 کو بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے پاکستانی وزیر اعظم لیاقت علی خان کو بھیجے گئے ایک ٹیلی گرام میں لکھا
“میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس ہنگامی صورتحال میں کشمیری امداد کا سوال بھارت کے ریاست پر اثر انداز کرنے کے کسی بھی طریقے سے ترتیب نہیں کیا گیا ہے. ہمارے نقطہ نظر جس نے ہم بار بار عوام کو بتایا ہے یہ ہے کہ کسی بھی متضاد علاقے یا ریاست میں رسائی کا سوال پر وہاں کے لوگوں کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق فیصلہ کیا جائے اور ہم اس نظریے پر عمل کریں “

کشمیری نزاد برطانوی صحافی تنویر احمد احتجاج پر مظفرآباد سے گرفتار

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق تنویر احمد کو لال چوک مظفرآباد سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

کیا ہری سنگھ بزدل تھا؟

قبائلیوں کی حملے کے وقت ہری سنگھ کی کل دس ہزار کی فوج تھی جس کے پاس وسائل کی کمی تھی جبکہ قبائلیوں کی پست پناہی پاکستان کی فوج، سابق آرمی سروسز، کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ہندوستان اور انگریز بھی شامل تھے ان کی یہ دلیل سرحدی گاندھی کے حوالے سے رد بھی نہیں کی جا سکتی ہے کیونکہ باچا خان گاندھی کے قریبی دوست تھے ہو سکتا ہے ریاست جموں کشمیر ہتھیانے کے چکر میں انہوں نے کوئی چال چلی ہو ۔

یزید چوک مظفرآباد بمقابلہ لال چوک سری نگر

میرے دائیں طرف والے بیڈ پر ان کے جسم نے جھرجھری لی. میں نے جس شخص کو ڈاکٹر سمجھ کر اس قریب مرگ شخص کو دیکھنے کا کہا تو پتا چلا وہ بھی مظاہرین میں سے ہے اور نیم زخمی ہونے کی وجہ سے لایا گیا ہے. ڈاکٹر اور نرسز ڈی سی یا پولیس کی اجازت کے بارے میں بحث کرتے رہے. اس قریب مرگ شخص کے وارث کے لیے آوازیں دیتے رہے. اور دو منٹ بعد بلا اجازت ہی جب کیس دیکھنے پر اتفاق ہوا