ریاست جموں کشمیر پر قبائلی حملہ اور پاکستانی لشکر کشی

16 یا 17اکتوبر کو پاکستان فوج کا ایک کرنل شاہ سرےنگر میں الحاق پاکستان کی دستاویز اٹھائے مہاراجہ سے ملنا چاہتا تھا مہاراجہ کے وزیر اعظم نے اسے یہ کہا کہ پاکستان حکومت خوراک کی ترسیل شروع کرے تو وہ اس بارے میں سوچ سکتے ہیں ۔ کرنل شاہ کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ اس بات پر ڈٹا رہا کہ کشمیر جلد سے جلد پاکستان سے الحاق کرے

لبریشن فرنٹ کا دھرنا ختم ہو گیا ، اثرات دیر پا ہوں گے

ڈاکٹر توقیر گیلانی اپنی پوری فیملی کے ساتھ مارچ اور دھرنے میں موجود رہے۔ ان کے علاوہ بھی کئی لوگ اپنے خاندان بھر کو لے کر دھرنے میں پہنچے ہوئے تھے جہاں رات کو سونے کے لیے ننگی دریاں، تکیوں کے جگہ برتن اور چھت کی جگہ کھلا آسمان یا ٹینٹ تھا جس میں دونوں جانب سے جہلم کی یخ بستہ ہوائیں رات کے پچھلے پہر داخل ہوتی تھی۔ دھرنے میں موجود شرکاءہردم پرجوش تھے

میر پور: چیئر مین پی این اے کی حکومتی وفد سے ملاقات، کشمیر چھوڑ دو تحریک کے حوالے سے مذاکرات

حکومتی وفد نے یقین دلایا کہ پی این اے کے پرامن و جمہوری احتجاجی مارچ کو کہیں بھی نہیں روکا جائے گا کیوں کہ ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔ اس لیے آزادی پسند، جمہوریت پسند، پرامن اتحاد میں شامل پارٹیوں کو اپنی سوچ و فکر کے مطابق اس نوعیت کی سرگرمیاں کرنے کا حق حاصل ہے۔

پی این اے نے21 اکتوبر آزادی مارچ کو حتمی شکل دے دی

اجلاس میں‌فیصلہ کیا گیا ہے کہ بائیس اکتوبر کو یونیورسٹی گراؤنڈ سے اسمبلی سیکرٹریٹ کی طرف پرامن مارچ کیا جائیگا، اور اسمبلی سیکرٹریٹ کے سامنے احتجاجی جلسہ کرتے ہوئے اپنے پروگرام و مطالبات رکھے جائیں گے جبکہ اسی موقع پرآئندہ کی حکمت عملی کا بھی اعلان کیا جائیگا.

4 اکتوبر ۔۔۔ نظریاتی ابہام- شفقت راجہ

تیسری سیاسی قوت مہاراجہ ہری سنگھ تھا جو ریاست کی اس پیچیدہ صورت حال کے پیش نظر ریاست کے بھارت و پاکستان میں سے کسی ایک کیساتھ الحاق کی بجائے ریاستی خودمختاری کا خواہشمند تھا لیکن برصغیر کی مجموعی اور ریاست کی اندرونی طوفانی سیاست میں شدید
دباو کا شکار تھا۔

سیز فائر لائن پر بھارتی جارحیت، ایک کشمیری ہلاک تین زخمی

مقامی افراد نے اس دوران بتایا کہ نیلم ویلی مین تین مختلف مقامات، کنڈالشاہی، اٹھمقام اور کیرن میں فضا میں بھارتی ڈرون بھی دیکھے گئے ، یہ تیس منٹ سے ایک گھنٹہ تک پاکستانی زیر انتظام ریاست جموں کشمیر کی حدود میں رہے۔

لبریشن فرنٹ دھرنا: انتظامیہ نے ختم کرنے کی ڈیڈ لائن دے دی

دھرنا مظاہرین کی سیکورٹی پرمعمور پولیس فورس کو ہائی الرٹ سگنل جاری کردیا ! دھرنے میں شریک خواتین کو تحویل میں لینے کے لیے آزادکشمیر لیڈی پولیس کو بھی سول انتظامیہ نے ہاٸیر کر لیا، ذرائع

خود مختاری سے رائے شماری: آفتاب احمد

اُس جوان کا واویلا تھا جو عالمی سامراج کا ضمیر جھنجھوڑنے سے زیادہ اپنوں کی بے حسی کا ماتم کر رہا تھا۔ اُسے شکوہ تھا کہ آزادی کے لیئے دو چار دن کا نہیں، دو چار سالوں جتنا لانگ مارچ کرنے کا عزم ہونا چائیے۔ اُسے اپنوں سے گِلہ تھا کہ ہماری پیاس بیچی گئی۔ ہمارا فرات بیچا گیا۔ اب ہمارے لہو کو بیچنے کا پلان بن رہا ہے۔ الغرض اُس کے ایک ایک لفظ سے اخلاص اور وطنیت کی خوشبو آ رہی تھی۔

عمران خان کی جنرل اسمبلی میں تقریر، مسئلہ کشمیر پر کوئی ٹھوس لائحہ عمل سامنے نہیں آیا، پی این اے

پی این کے رہنماوں نے واضح کیا کہ ہم کسی بھی طور ریاست کی تقسیم کو کبھی بھی قبول نہیں کریں گے اور مادر وطن کی وحدت کیلئے ہر قربانی دیتے ہوئے بھرپور مزاحمت کریں گے ۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے جلسے میں اندر کتنے لوگ تھے اور مخالفت میں باہر کتنے

پروٹیسٹرز پندرہ سے بیس ہزار کر درمیان آئے اور مودی کے لیے استقبال کرنے کے لیے بھی اتنے ہی لوگ تھے. جبکہ مودی کے جلسے کا بجٹ ملینز میں تھا اور پاکستانیوں کے ساتھ ٹیکساس کے سکھوں نے چندہ کر کے نوے ہزار ڈالر جمع کیے تھے.