حکومت آزادکشمیر بجٹ 2019-20۔ایک جائزہ > عبدالحکیم کشمیری

حکومت آزادکشمیر کی طرف سے مالی سال 2019-20کے لیے پیش کردہ بجٹ کے حوالے سے ذمہ داران یا ارباب اختیار کے بارے میں اگر بات کی جائے تو یہ جملہ روز روشن کی طرح درست ہے کہ ان کی بھوک اخلاقیات کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکی

پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے آئندہ مالی سال کےلئے 121 ارب کا بجٹ پیش کر دیا، بجٹ خسارہ پچیس ارب ہوگا

آئندہ مالی سال کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 11فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔شاہرات کیلئے 9ارب90کروڑ10لاکھ، تعلیم کیلئے2ارب67کروڑ،صحت کیلئے75کروڑ تجویز کیے گئے ہیں۔ گریڈ 1سے 16تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 10،گریڈ17سے 20تک افسران کی تنخواہوں میں 5اور پنشن میں 10فیصد اضافہ تجویز کیاگیا ہے۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا

آزاد کشمیر کے نئے مالی سال 20-2019 کا بجٹ آج اسمبلی میں پیش کیا جائے زرائع کے مطابق بجٹ کا کل حجم ایک کھرب اور انیس ارب مختص کئے جانے کا امکان ہے ۔

مظفرآباد: دریا بچاؤ تحریک – وجوہات اور مطالبات

نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ کا کام سال 2008ء میں شروع ہوا۔ اس کی ابتدائی ماحولیاتی تجزیاتی رپورٹ سال 1996ء میں ایک نارویجین کنسلٹنٹ فرم NORPLAN نے تیار کی جسے بعد ازاں جعلسازی سے سال 2010ء میں قابل قبول شکل دے کر ادارہ تحفظ ماحولیات آزاد جموں و کشمیر سے سال 2011ء میں مشروط عدم اعتراض سرٹیفکیٹ حاصل کیا گیا۔

آزاد جموں کشمیر کے قدرتی وسائل پر ایک نظر

جنگلات صرف ازاد کشمیر سے سالانہ پانچ لاکھ سے زیادہ درخت کاٹ لیے جاتے ہیں جنکی مالیت 53ارب 75کروڑ روپے بنتی ہے اسکے علاوہ موسمی حالات اورآگ سے 05 کروڑ پودۓ ضائع ہو جاتے ہیں صرف اس لکڑی کی اسمگلنگ روک کر اگر فرنچیر بنانے کی فیکڑیاں لگای جاہیں

نریندرہ مودی کا نیا بھارت

دنیا کے بدلتے سیاسی حالات اور خاص طور پر پیسیفک ایشیاء کی بدلتی سیاسی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے سب ایشیائی ممالک کی نطر بھارت کے عام انتخابات پر تھیں

پی ٹی ایم اور غداری کے فتوے

اب ہوتا کچھ یوں ہے کہ یہ سب کچھ جو اوپر بیان کیا گیا انسان اپنے انفرادی اور اجتماعی فائدے کے لیے کرتا ہے اور اگر انسان کی بنائی ہوئی کسی چیز سے اس کو فائدے کے برعکس نقصان پہنچنے لگے تو وہ اس کو توڑنے یا ختم کرنے میں بھی دیر نہیں کرتا۔ گھر اگر بوسیدہ ہوجائے تو گرا دیا جاتا ہے اور نیا بنا دیا جاتا ہے۔

ٹیٹوال کا کتّا – از سعادت حسن منٹو

ہوائی جہازوں کا کوئی خطرہ نہیں تھا ۔ تو پین ان کے پاس نہ ان کے پاس ‘ اس لئے دونوں طرف بے خوف و خطر آگ جلائی جاتی تھی ۔ ان سے دھوئیں اٹھتے اور ہواؤں میں گھل مل جاتے ۔ رات کو چونکہ بالکل خاموشی ہوتی تھی ۔

کلاشنکوف سے قلم تک کا سفر – دانش ارشاد

ایسے ہی نوجوانوں میں ایک اچھی تعداد ایسے نوجوانوں کی تھی جنہوں نے پاکستان میں تعلیمی سلسلہ آگے بڑھاکر صحافت کے شعبہ کو کیرئر کے طور چن لیا اور قلم وکیمرے کو اپنا ہتھیار اور روزگار بنایا ۔ پاکستا نی زیر انتظام کشمیر اوراسلام آباد میں فی الوقت کم و بیش80 کشمیری صحافی ایسے ہیں